The PTUDC website has been revamped in order to allow us to update the site on a more regular basis. We hope you like the new design!
| میھڑ سٹی میں بیروزگاری پرلیکچر پروگرام ,مطالبات اور را |
|
|
| Written by PTUDC | |
| Thursday, 21 May 2009 | |
|
رپورٹ۔ کامریڈ ضیاءزنﺅ،11.05.2009۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چھبیس اپریل کومیھڑ سٹی
میں ” بیروزگاری کیوں اور حل کیا،، کے موضوع پربی این ٹی کی جانب سے لیکچر
پروگرام کیا گیا جس میں کافی تعداد میں بیروزگار نوجوانوں نے شرکت
کی۔پروگرام کی چیئر کامریڈ شیر ڈیرو نے کی، شرکاءکو کامریڈ خالد جمالی صدر
بی این ٹی ضلع دادو اور کامریڈ بابرجنرل سیکریٹری بی این ٹی ضلع دادو نے
خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسان نے ظالم غلامی کا دور بھی دیکھا اور
جاگیرداری کا دور بھی دیکھا مگر ان ادوار میں باوجود اس کے کہ انسان
زنجیروں میں قید تھا مگر بیروزگاری کا وجود تک نہیں تھا ۔ مگر جب سے یہ
موجودہ خونخوار سرمایہ دارانہ نظام رائج ہوا ہے وہ اپنے ساتھ دو نئے مظہر
لے آیا ہے ایک’ ’آزاد اجرتی غلامی“ دوسرے” بیروزگاری“۔ ان مظاہر کی وجہ
منافع کے حصول کی حوس ہے جو سرمایہ داروں کو مجبور کرتی ہے کہ زیادہ سے
زیادہ انسانوں کو بیروزگار رکھا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ سستا لیبر
مارکیٹ میں فراہم ہوسکے۔ اور اس وقت سرمایہ دارانہ نظام کے زوال کا آغاز
ہو چکا ہے کیونکہ کسی بھی معاشی نظام کے ٹوٹنے کی بنیادی علامات یہ ہوتیں
ہیں کہ وہ انسانوں کو تین وقت کی روٹی اور گھر تک میسرکرنے کے قابل نہ ہو
جیسا کہ آجکل ہم جدید ممالک میں خصوصا امریکا میں دیکھ رہے ہیں جہاں لوگ
گھر نہ ہونے پر درختوں اور فٹ پاتھ پہ رہنے پر مجبور کیے جارہے ہیں۔اور جب
سرمایہ دارانہ نظام زوال پزیر ہو رہا ہے اوراس میں منافع کی شرح میں گراوٹ
آرہی ہے تو ایسے عالم میں منافع کی شرح کو برقرار رکہنے کے لیے سرمایہ
داری نظام بیروزگاری میں مزید اضافہ کررہا ہے ، اور یہ عمل دنیا بھر میں
تیزی سے جاری ہے۔بیروزگاری کا خاتمہ تب ممکن ہے جب ہم اجتمائی کوششوں سے
ایک ایسا معاشی سیٹ اپ بنائیں جس میں منافع کی بجاءانسانی ضروریات اولین
اہمیت رکھتی ہوں ، اور ایسے سیٹ اپ کو ہم سوشلسٹ معیشت کہتے ہیں، اور ایسا
سیٹ اپ بنانے کا کوئی شارٹ کٹ نہیںہے ، اس کے لیے ہمیں مسلسل جدوجہد کرنی
ہوگی ، اس کے علاوہ بیروزگاری کا اور کوئی حل نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ کامریڈ حنیف، ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اِس ملک کے شہر ی ہونے کے
ناطے آئینی اور قانونی طور پر یہ ریاست ہمیں روزگار دینے کی پابند ہے ۔مگر
گزشتہ پندرہ سالوں سے یہ ریاست ہمیں روزگار دینے سے مسلسل انکار کررہی ہے
۔مختلف ٹیسٹ لے کر میرٹ کا جو ڈرامہ رچایا جاتا ہے ان میں چند ہی خوش نصیب
ہوتے ہیں جو روزگار حاصل کرسکتے ہیں جبکہ اکثریت پھر بھی بےروزگار ہی رہتی
ہے، سرکاری یا نجی شعبوں میں جو نام نہاد نوکریاں ملتی بھی ہیں ،تو ان کی
تعدادبھی انگلیوں پرگننے کے برابر ہے جبکہ اس ملک میں تین کروڑ چواسی لاکھ
نوجوان بیروزگارہیں ،ان میںایک کروڑ پنتالیس لاکھ تعلیم یافتہ نوجوان
بیروزگارہیں جن میں پنجاب صوبے میں دو کروڑ دس لاکھ ، سندھ میں پچانویں
لاکھ ، سرحد میں ساٹھ لاکھ اور بلوچستان میں انیس لاکھ بیروزگار ہیں ۔جبکہ
یہ حکمران ملک کے تمام پیداواری وسائل اور ان میں سے حاصل ہونے والی آمدنی
پر خود قابض ہیں،ان میں تیل اورگیس کی پیداوار ،صنعتی اور زرعی پیداوار
،بندرگاہوں کی کمائی بیرونی تجارت اور عوام پرمسلط براہِ راست اوربالواسطہ
ٹیکسوں کی کمائی شامل ہے ۔ان تمام وسائل کے ہونے کے باوجود ہمیں روزگار
نہیں دیا جاتا ۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے الیکشن میں نعرہ دیاتھا
کہ’ ©’بینظیر آئے گی روزگار لائے گی ،، پر ہم دیکھ رہے ہیں کہ اداروں کی
نجکاری زور وشور سے جاری ہے جس سے بیروزگاری میں مزید اضافہ ہورہاہے ۔صرف
پیسے والے افراد ،وزیروں اور مُشیروں کے رشتہ دار روزگار خرید سکتے ہیں
،پر قابلیت ہونے کے باوجود ملک کے اکثریتی نوجوان نوکریاں حاصل کرنے سے
محروم رہتے ہیں ۔نوجوانوں سے جان چھڑانے کے لئے ”بینظیر بھٹو شہید یوتھ
ڈویلپمینٹ ٹریننگ پروگرام ،، شروع کیا ہوا ہے پر اس بات کی کوئی ضمانت
نہیں کہ بعدمیںان نوجوانوں کو مستقل روزگار دیا جائے گا یا نہیں !اوردوسری
طرف بی بی ایس وائے ڈی پی کے زیرتربیت نوجوانوں کو کئی ماہ سے تنخواہوں کی
ادائیگی نہیں ہورہی ۔ ایسی صورتحال میں ہم نوجوانوں کی اس نام نہاد جمہوری
حکومت سے بھی امیدیںٹوٹ چکی ہیں ،کیونکہ ہم سے دھوکا کیا گیا ہے اس
صورتحال میں ہمارے پاس صرف دو راستے بچتے ہیں ،یا تو ہم لاکھوں کروڑوں
نوجوان خودکشیاں کر لیں یا پھر روزگارحاصل کرنے کے لئے جدجہد کے ذریعے
لڑیں ۔ہمیں یقینا جدوجہد والا راستہ اختیار کرنا پڑے گا ۔ آئیں!ہم
بیروزگارنوجوان تحریک کے پلیٹ فارم پر متحد ہوں اور اس حکومت سے مطالبہ
کریں کہ ہمیں بغیر کسی سیاسی ،سفارشی اور نسلی فرق کے روزگار دیا جائے
،ورنہ دوسری صورت میں بیروزگاری الاو¿نس ماہوار دس ہزار روپے دیاجائے
۔ساتھیو ، آگے بڑھو ،ایک خوبصورت مستقبل آپکا منتظر ہے ۔ سچے جذبوں کی قسم
فتح ہماری ہوگی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بیروزگار نوجوان تحریک کے
مطالبات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ملک کے تمام نوجوانوں کو روزگار دیا جائے یا دوسری
صورت میںماہانہ بیروزگاری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الاو¿نس دس ہزار
روپے دیا جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ملک کے امپلائیمنٹ ایکسچینج
بیورو کو بحال کرکے تمام بیروزگاروں کورجسٹر کرکے کارڈ دیئے جائیں ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عارضی نہیں مستقل روزگار اور اس کے ساتھ ریگولر
ملازمت کی سہولتیں دی جائیں ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ کارخانوں اور صنعتوں میں
کام کے ہفتہ وار آڑتالیس گھنٹوںسے کم کرکے پنتیس کردیئے جائیں تاکہ مزید
نوجوانوں کو روزگار مل سکے ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔طبقاتی تعلیمی
نظام کو ختم کرکے تعلیم ہر سطح پر مفت کی جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔
۔نوجوانوں کو ہر سطح پہ ثقافتی ،ادبی ،تفریحی اور اسپورٹس سرگرمیوں کی
سہولتیں فراہم کی جائیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رابطہ آفس۔،۔۔
کراچی ،۔ آفس بیروزگار نوجوان تحریک ،البرھان سینٹر ،نزدفائر برگیڈ آفیس
صدر کراچی :فون - 03323304605 - 0212224816 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔
حیدرآباد : آفس بیروزگار نوجوان تحریک نزد حیدرعلی ڈیر ی ٹاور مارکیٹ سول
ہسپتال روڈ حیدرآباد: فون - 03332771614 - 03313650170 - 0222918426 ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ دادو ،۔ آفس بیروزگار نوجوان تحریک نزد سینما چوک دادو فون -
03342217880 - 03003271419 ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔ خیرپور میرس ،۔ ،
آفس بیروزگار نوجوان تحریک ،۔ فون 03313061884-۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شہداد کوٹ ،۔ آفس بیروزگار نوجوا ن تحریک : فون 03337505651-
|
| < Prev | Next > |
|---|
The Struggle continues!