کراچی میں پی ڈی یو سی کی نجکاری کے خلاف کانفرنس Print E-mail
Written by PTUDC   
Thursday, 11 June 2009

کامریڈ حسیب،03.06.2009۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کیمپیئن نے کراچی پریس کلب کے تعاون سے نجکاری کے خلاف کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں کراچی سمیت سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں سے ٹریڈ یونین رہنماﺅں نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت مرکزی صدر پی ٹی یو ڈی سی کامریڈ ریاض بلوچ نے کی جبکہ مرکزی سیکرٹری جنرل نذر مینگل، سندھ باڈی کے صدرانور پہنور، سینیئر نائب صدر جے پرکاش، نائب صدر شہباز پھلپوٹو، جنرل سیکرٹری حسیب احمد، ڈپٹی جنرل سیکرٹری پرشوتم، جوائنٹ سیکرٹری غلام رسول میمن، پی ٹی یو ڈی سی کراچی کے جنرل سیکرٹری اکبر میمن، جوائنٹ سیکرٹری رئیس بیگ، سینیئر نائب صدر شیخ محی الدین، پریس سیکرٹری زبیر رحمٰن، کامریڈ جام ساقی، ریلوے ورکرز فیڈریشن کے صدر منظور رضی، سٹیٹ بینک سی بی اے یونین کے جنرل سیکرٹری لیاقت ساہی، ایچ بی ایف سی، سی بی اے یونین کے صدر ملک آصف حیات، جنرل سیکرٹری عارف دین اور آفتاب چنا، آفیسرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری اطہر زیدی ، ریلوے محنت کش یونین کے ڈویژنل صدرمنظور ملاح ، کے ای ایس سی لیبر یونین کے رہنما کرامت حسین ، سول ایوی ایشن ڈیلی ویجز ایکشن کمیٹی کے رہنما اظہر، واپڈا ہائیڈرو یونین کے چیئرمین بشیر چانڈیو، ہائی وے یونین کے رہنما منظور آہیر، پاکستان پیرا میڈیکل کے رہنما کامریڈ پر شوتم، پ ٹ الف کے رہنما مقبول، متحدہ لیبر فیڈریشن کے رہنما محمد جعفر خان، پوسٹ آفس نوپ کے رہنما داد میر بلوچ ،، کوئٹہ،، ، پاکستان پوسٹ ڈی ایم او یونین کے جنرل سیکرٹری اسد اللہ،جام شورو پاور ہاﺅس یونین کے رہنما نواب شجرو، پوسٹل لائف انشورنس کے رہنما قمر عباس نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔ تمام مقررین نے سرمایہ دارانہ نظام کی موجودہ پالیسیوں پر شدید تنقید کی اور کہا کہ پہلے بھی ایک سو چوراسی سے زیادہ ادارے بیچے گئے ہیں ان کے نتائج کیا نکلے ان سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ کے ای ایس سی کی نجکاری کے بعد لوڈ شیڈنگ کم ہونے کی بجائے بڑھی تھی اور پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے بعد چالیس ہزار مزدوروں کو نوکریوں سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔ اب اس کانفرنس کی وساطت سے ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم کوئی ادارہ بھی نیلام ہونے نہیں دیں گے۔ جس طرح قادر پور گیس فیلڈ کے محنت کشوں نے نجکاری کے حملے کا منہ توڑ جواب دیا تھا اسی طرح تمام دیگر اداروں کے محنت کش مشترکہ جدوجہد کے ذریعے ان سرمایہ دارانہ پالیسیوں کو ناکام بنا دیں گے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قراردادیں ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کیمپیئن کی نجکاری خلاف کانفرنس میں شریک شرکا نے مندرجہ ذیل قراردادیں اتفاقِ رائے سے پاس کیں۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۱، تائیس اداروں کی نجکاری کا فیصلہ واپس لے کر پہلے سے نیلام کیے گئے اداروں جن میں کے ای ایس سی اور پی ٹی سی ایل شامل ہیں،قومی تحویل میں لیا جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔2۔نجکاری کی وزارت اور کمیشن کا فی الفور خاتمہ کیا جائے۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مزدور دشمن آئی آر اے دو ہزار آٹھ کو منسوخ کر کے مزدور دوست قوانین لاگو کیے جائیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4۔مہنگائی اور بیروزگاری کا خاتمہ کر کے کم از کم تنخواہ پندرہ ہزار روپے کی جائے۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 5۔کنٹریکٹ،ڈیلی ویجز اور ٹھیکیداری نظام ختم کر کے تمام محنت کشوں کو مستقل روزگار دیا جائے۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بنیادی ضروری اشیا خوراک،غذا اور دوائیوں وغیرہ سے ٹیکس ختم کر دیئے جائیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ 7۔تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہیں دوگنی کر دی جائیں۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔8۔ تمام کارخانوں کی پیداوار اور تقسیم میں محنت کشوں کو حصہ دار بنایا جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 9۔پرائیویٹ اداروں میں محنت کشوں کو یونین سازی کا حق دیا جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔10۔اسٹیٹ بینک میں فوری طور پر ریفرنڈم کرایا جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ پاکستان سٹیل،سول ایوی ایشن،مشین ٹول فیکٹری اورپی آئی اے کے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کر کے تمام مراعات دی جائیں۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 12۔کے پی ٹی کی برتھوں اور سکولوں کو پرائیویٹ مالکان سے واپس لیا جائے۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 13۔سوات کے متاثرین کو تمام بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور شہریوں کو تحفظ دیا جائے۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلوچستان میں فوجی آپریشن ختم کرکے گمشدہ لوگوں کو فوری بازیاب کرایا جائے۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ 15۔ میٹرو پولیٹن سٹیل کارپوریشن کو قومی تحویل میں لے کر برطرف کیے گئے ملازمین کو فوراً بحال کیا جائے۔

 

 
< Prev   Next >

The Struggle continues!