کوٹ ادو میں کیپکو کی آلودگی کیخلاف متاثرین کا احتجاج Print E-mail
Written by PTUDC   
Thursday, 18 June 2009
رپورٹ ، کامریڈ شہریار،18.06.2009۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر پیدا ہونے والی ہر چیز صرف اور صرف اس مقصد کے تحت بنائی جاتی ہے کہ اس کیوجہ سے کتنا منافع حاصل ہو پائے گا۔ چاہے وہ چھوٹے سے چھوٹا بیوپار ہو یا بڑے بڑے کارخانے ۔ محنت کش اپنی محنت بیچتے ہیں اور بدلے میں چند سکوں اور مستقل بیماریوں کے علاوہ کچھ نہیں پاتے۔ خاص طور پر بڑے کارخانوں کے مالکان منافع کمانے کی ہوس میں نہ صرف محنت کشوں کی جسمانی محنت لوٹتے ہیں بلکہ ماحولیاتی آلودگی سے بھی نزدیکی آبادیوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا رہے ہیں۔ کوٹ ادو پاور کمپنی ایسا ہی ادارہ ہے، جو کہ بجلی پیدا کرنے کیلئے ایشیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ جسے ہمارے حکمرانوں اور کمیشن مافیا نے ملٹی نیشنل کمپنی کو اونے پونے داموں بیچ دیا تھا۔ پرائیوٹ ہونے کے بعد اس ادارے کے مالکان نے فوری طور پر آدھے سے زیادہ محنت کشوں کو ڈاﺅن سائزنگ، رائٹ سائزنگ اور ری سٹرکچرنگ کے نام پر بے روزگار کر دیااور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ٹھیکیداروں کے ذریعے انسانی محنت خریدنے لگے، جہاں اب مزدور تین ہزار سے چار ہزار تنخواہ پا کر نہ صرف تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں بلکہ ان مزدوروں سے ڈیوٹی آٹھ گھنٹے کی بجائے بارہ سے چودہ گھنٹے لی جاتی ہے۔ سولہ سو میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والا یہ ادارہ سالانہ چھ ارب روپے کما کر ملک سے باہر بھیج دیتا ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ پورے ملک میں ہمارے آقاﺅں کی طرف سے پیدا کردہ خود ساختہ بجلی کے بحران میں برابر کا ذمہ دار ہے۔ جو صرف اس لئے پوری صلاحیتوں کے ساتھ بجلی پیدا نہیں کر رہا کہ اس کے مالکان کے منافعوں میں کمی نہ آنے پائے۔ حکومت پاکستان نے اس ادارے کے تیس ارب روپے کے واجبات ادا کرنے ہیںجسکی بنا پر یہ ادارہ صرف چھ سو سے سات سو میگا واٹ بجلی پیدا کرتا ہے اور وہ بھی انتہائی مہنگے داموں فروخت کرتا ہے۔ اتنے بھاری بھرکم منافع کمانے کے باوجود یہ ادارہ اپنے سوشل ویلفیئر کا فنڈ مقامی آبادی کی سہولیات اور مسائل حل کرنے کی بجائے من پسند لوگوں کو نوازتا ہے۔ پچھلے دنوں اس ادارے نے لاہور کے ایک انتہائی مہنگے پرائیوٹ کالج لمز(جہاں شاید داخل ہونے کا بھی معاوضہ دینا پڑتا ہے)کو کروڑں روپے کے فنڈز سے نوازہ اور مقامی آبادی میں چند مسافر خانے بنوا کر اسے فلاح عامہ سے تشبیہہ دی۔ اسکے علاوہ یہ ادارہ سب سے زیادہ ماحولیاتی آلودگی بھی پیدا کر رہا ہے۔ اس کی چمنیوں سے ہر وقت زہریلا دھواں نکلتا رہتا ہے( جس میں سلفر اور دوسری زہریلی گیسیں شامل ہوتی ہیں) جو لوگوں سے صاف ہوا میں سانس لینے کا حق تک چھین رہی ہےں۔ ٹربائینوں سے نکلنے والا زہریلا پانی ساتھ بہنے والی نہر میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اور پھر اسی زہر آلود پانی سے مقامی آبادی اپنی فصلوں کو کاشت کرتی ہے۔ اور پالتو جانور بھی یہی مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں۔ کیپکوکے ساتھ والی آبادیوں میں بسنے والے غریب کسان خاص طور پر اذیت بھری زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ اور آج کے جدید ترین دور میں بھی صحت، تعلیم ، انفراسٹرکچر سمیت تمام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ بیماریاں تو جیسے ان کی قسمت میں لکھ دی گئی ہوں، اور تو اور ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچے مکمل صحت مند انسانی جسم ہی حاصل نہیں کر پاتے۔ کوئی نہ کوئی بیماری، جسمانی کمی پیدائشی طور پر ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ با ہر سے خوبصورت نظر آنے والے اس ادارے کی نزدیکی آبادیوں کی حالت زار کا جائزہ لیا جائے تو ہر طرف گندگی اورکچی آبادیاں ایک بد نما داغ کی طرح نظر آتی ہیں۔ ان سب مسائل سے نجات کےلئے مقامی آبادی نے کئی مرتبہ ایم این اے اور سیاست دانوں کی توجہ اس طرف دلائی مگر ہمیشہ کی طرح یہ لوگ ہمارے دکھوں کو بیچ کر کالا دھن کماتے ہیں اور سرمایہ داروں کو لوٹ مار کی کھلی آزادی بخش دیتے ہیں۔ اور ہم عوام تھک ہار کر اپنے دکھوں، تکلیفوں کو قدرت کی طرف سے عطیہ جان کر چپ سادھ لیتے ہیں اور کوئی متبادل قیادت اور نظام نہ ہونے کی بنا پر پھر انہی ناخداﺅں کو ووٹ دے کر اپنی زندگیوں کے فیصلے کرنے کا اختیار دے دیتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے مقامی آبادی کا پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کوٹ ادو کے کامریڈز کے ساتھ رابطہ ہوا اور ان مسائل کا سیاسی حل تلاش کرنے کی غرض سے ایک کمپئین کا آغاز کیا گیا جس کا نام متاثرین کیپکو رکھا گیا۔ اس کمپئین میں تمام لوگوں کی شرکت کےلئے کیپکو کی تمام نزدیکی آبادیوں کے اندر میٹنگز کا اہتمام کیا گیا۔ تاکہ عام لوگ اس کمپئین کا حصہ بنیں اور اپنے مسائل کا حل خود تجویز کریں۔ اس سلسلے میں سات بڑی میٹنگز پورے علاقہ میں منعقد کی گئیں جن میں لوگوں نے بھر پور انداز میں شرکت کی۔ اس سارے کام کو آرگنائز کرنے میں مقامی کسانوں کی تنظیم "ہالی سانجھ"نے مکمل ساتھ دیا۔ تمام آبادیوں میں میٹنگز کے بعد ایک آٹھارہ رکنی ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس میں تمام آبادیوں سے لوگوں کو شامل کیا گیا اور ایک چارٹر آف ڈیمانڈ تشکیل دیا گیا۔ اس ایکشن کمیٹی کی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ جمعہ بارہ جون تین بجے کیپکو گیٹ کے سامنے مظاہرہ کیا جائے گا۔ اور اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ اور اپنی آواز وسیع تر پرتوں تک پہنچائی جائے گی۔ جس کے بعد پورے شہر میں بینرز آویزاں کیے گئے جن پر مطالبات درج تھے اور پورے علاقہ میں مظاہرہ کی منادی کرائی گئی۔ مظاہرہ والے دن صبح صبح ہی پولیس نے منادی کرنے والوں کو پکڑ کر تھانے میں بند کر دیا۔ ڈی ایس پی اور کوٹ ادو نے کیپکو انتظامیہ کی شہ پر پورے ضلع کی پولیس فورس کوٹ ادو میں طلب کر لی جس کے ذریعے مقامی آبادی کو ڈرانا شروع کر دیا۔ ایس ایچ او کوٹ ادو اور ڈی ایس پی کوٹ ادو سے جب پکڑے گئے اشخاص کو بازیاب کرانے کے لئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ایکشن کمیٹی کو مظاہرہ نہ کرنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا اور عمل نہ کرنے پر خطرناک نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ اس خوف و ہراس کے عالم کے باوجود لوگ مظاہرہ کی جگہ پر پہنچنا شروع ہو گئے۔ جنہیں پولیس نے منتشر کرنا شروع کر دیا اور جگہ جگہ ناکے لگا کر پولیس نے مقامی آبادیوں سے شرکت کرنے والوں کو گھر واپس بھیجنا شروع کر دیا۔ مظاہرین کے حوصلے اُس وقت بلند ہوئے جب شہر سے کچھ کارکن اور لوگ مظاہرہ کی جگہ پر پہنچے،پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندگان بھی موقع پر پہنچ گئے اور لوگوں سے اُن کے مسائل پوچھنے شروع کر دیئے۔ اسکے بعد پروگرام کا باقائدہ ایکشن کمیٹی کے پرجوش ممبر مہر محمد رمضان نے آغاز کیا ۔ مقررین نے پولیس کے ناروا سلوک کی شدید مذمت کی اور اسے کیپکو انتظامیہ کے اوچھے ہتھکنڈوں سے تشبیہہ دی ۔ اور مطالبات پورے نہ ہونے تک تحریک کے جاری رکھنے اور متاثرین کیپکو کا مکمل ساتھ دینے کا عزم ظاہر کیا۔ کسانوں کی مقامی تنظیم ہالی سانجھ کے ظفر لُنڈ، فضل گورمانی اور ذولفقار علی نے اپنے خطاب میں کیپکو انتظامیہ کی شدید مذمت کی اور مقامی سیاست دانوں کی بے حسی پر بات کرتے ہوئے لوگوں کو اکٹھے ہو کر جدوجہد کرنے اور اپنے مسائل خود حل کرنے کا مشورہ دیا۔ اس کے بعد پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے کامریڈ شہر یار نے اپنی بات کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ پرائیوٹائزیشن کا شاخسانہ ہے کہ سرمایہ داروں کو کھلی آزادی ہے کہ انسانوں کے خون کو نچوڑ کر منافع حاصل کریں، اور بدلے میں ہمیں بیماریاں اور مسائل کے انبار عطا کریں۔ ہم متاثرین کیپکو کے مکمل طور پر ساتھ ہیں۔ اس کے بعد علامتی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے، جن پر مطالبات درج تھے۔ سب لوگ کیپکو انتظامیہ کے منفی رویے، اور سرمایہ داروں، جاگیر داروں کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔ اسی دوران پولیس نے حراست میں لئے گئے لوگوں کو بھی آزاد کر دیا۔ جن کے پہنچنے پر لوگوں کے جوش میںاضافہ ہو گیا۔ اور جو لوگ پولیس کے خوف سے ڈرے سہمے ہوئے تھے وہ بھی آن شامل ہوئے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ انتظامیہ اس مظاہرے سے اتنی خوفزدہ تھی کہ تین سو ، چار سو پر امن لوگوں کےلئے پورے ضلع کی پولیس فورس ، ڈی ایس پی اور تمام اسسٹنٹ ایس ایچ سو سمیت پہنچی ہوئی تھی۔ آخر میں مظاہرین اس عزم کے ساتھ رخصت ہوئے کہ اس تحریک کو مطالبات کی منظوری تک جاری رکھیں گے اور پر امن طور پر احتجاج کرتے رہیں گے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مطالبات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیپکو سمیت تمام صنعتوں میں روزگار مقامی آبادی کو دیا جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سوشل ویلفئیر کا فنڈ(جو کہ سولہ کروڑ سالانہ بنتا ہے )کو مقامی آبادی کی فلاح بہبود پر خرچ کیا جائے جس سے سڑکیں، ہسپتال، پینے کے صاف پانی کے پلانٹس اور سکولز تعمیر کئے جائیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیپکو ماحولیاتی آلودگی کا مناسب بندوبست کرے اور پورے علاقہ میں گرینری لگا کر دے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیپکو زہریلا پانی مقامی نہر میں ڈالنا بند کرے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سو لہ سو میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والا کیپکو کوٹ ادو کے اندر لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ کرے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمام محنت کشوں اور عالمی برادری سے اپیل ہے کہ اس کمپئین کا بھر پور ساتھ دیں۔ ........................... جی ایٹ2007کا اجلاس ناکام ونا مراد رہا
 
< Prev   Next >

The Struggle continues!