لاہور کی محنت کش خواتین کی زندگیوں کی مشکلات Print E-mail
Written by PTUDC   
Tuesday, 23 June 2009

1245691978_kashmirday.jpg

 

کامریڈ سمیرا،23.06.2009۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ لاہور شیخوپورہ روڈ پر بہت سی صنعتیں موجود ہیں جہاں ہزاروں مزدور ہر روز اپنی محنت بیچنے کے لئے آتے ہیں۔ ان فیکٹریوں میں نوجوان لڑکیوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی کام کرتی ہے جن کا مرد محنت کشوں کی نسبت کئی گنا زیادہ استحصال کیا جاتا ہے۔ ان کو کم تنخواہ دینے کے علاوہ ان سے زیادہ کام لیا جاتا ہے، کسی قسم کی ماہانہ چھٹی کی گنجائش موجود نہیں ، ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود نہیں،کسی قسم کی سوشل سکیورٹی موجود نہیں اور نہ یونین سازی کے حقوق دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ان کو جنسی طور پر ہراساں بھی کیا جاتا ہے اور غلیظ گالیوں اور جبر کے ذریعے ان سے کام لیا جاتا ہے۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے کارکنان نے جب ان فیکٹریوں میں کام کرنے والی عورتوں سے ان کے حالات کے بارے میں آگاہی حاصل کرنی چاہی تو انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اکثر لڑکیاں بات کرنے سے بھی کتراتی تھیں کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس طرح ان کی نوکری چلی جائے گی۔ اسی طرح فیکٹری کے اندر کھانے کے وقفے کے دوران کسی بھی شخص سے ملنے پر پابندی ہے اور صرف ملازمین یا مالکان کے مخصوص لوگ ہی اندر جا سکتے ہیں۔ چھٹی کے وقت بھی گیٹ پر کسی اجنبی سے بات کرنے کا مطلب ہے کہ اس مزدور کی نوکری ختم ہو جائے گی۔ لیکن تمام مشکلات کے باوجود ہم چند لڑکیوں سے ان کے حالات مختصراً جان پائے ہیں جو درج ذیل ہیں۔ ان خواتین محنت کشوں نے درخواست کی تھی کہ ان کے نام نہ ظاہر کیے جائیں۔ لارنس فارماسوٹیکل کمپنی میں کام کرنے والی ایک محنت کش لڑکی نے بتایاکہ وہ میٹرک پاس ہے اور گزشتہ آٹھ سال سے یہاں کام کر رہی ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ فلنگ سیکشن میں کام کرتی ہے جہاں اسی دوسری لڑکیاں بھی کام کرتی ہیں۔ اس نے بتایا کہ اس کو ابھی تک مستقل نہیں کیا گیا اور نہ ہی ابھی تک اس کا سوشل سکیورٹی کارڈ بنا ہے۔ اس کی تنخواہ تین ہزار پانچ سو روپے ماہانہ جبکہ کام کے اوقات کار صبح آٹھ بجے سے شام چھ بجے تک روزانہ ہیں۔ اس کے علاوہ اکثردو گھنٹے اوور ٹائم بھی لگانا پڑتا ہے جس کے پندرہ روپے فی گھنٹہ کے حساب سے پیسے ملتے ہیں۔ ا س نے بتایا کہ پچھلے آٹھ سال سے اس کی تنخواہ میں ایک روپیہ کا بھی اضافہ نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ حکومتکے اعلان کے باوجود چھ ہزار روپے کم از کم ماہانہ تنخواہ ارد گرد کی کسی فیکٹری میں نہیںدی جا رہی۔ اس نے بتایا کہ فیکٹری میں کسی قسم کی کوئی یونین نہیں اور نہ ہی یہاں ایسے کسی کام کی اجازت ہے۔ اگر کوئی شخص اس قسم کی بات بھی کرے تو اسے کھڑے کھڑے نکال دیا جاتا ہے خواہ وہ بیس سال سے ہی کیوں نہ کام کر رہا ہو۔ اس نے بتایا کہ فیکٹری کے مالک کو یہاں خدا کا درجہ حاصل ہے اور اس کے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات پوری کرنی پڑتی ہے۔ ارضافارما میں کام کرنے والی ایک لڑکی نے بتایا کہ وہ مڈل پاس ہے اور گزشتہ تین سال سے یہاں کام کر رہی ہے۔ اس کی تنخواہ پانچ ہزار روپے ماہانہ ہے لیکن پک اینڈ ڈراپ کی کوئی سہولت موجود نہیں اور نہ ہی فیکٹری کی کینٹین سے بارعایت کھانا ملتا ہے۔ اس کو روز شاہدرہ سے یہاں آنا پڑتا ہے جس پر ماہانہ تقریباًآٹھ سو روپے خرچہ آتا ہے۔اس کے علاوہ دوپہر کے کھانے پر بھی بہت زیادہ خرچہ آتا ہے جس کے باعث وہ اکثر دوپہر کا کھا نا نہیں کھاتی۔ اس نے بتایا کہ اسے ابھی تک مستقل نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کے پاس سوشل سکیورٹی کارڈ ہے۔ فیکٹری میں کسی قسم کی کوئی یونین نہیں اور نہ ہی ایسی کسی گفتگو کی اجازت ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ لوگ آٹھ بہن بھائی ہیں جبکہ اس کے والد گدھا گاڑی چلاتے ہیں۔ اس کے علاوہ باقی 4بہنیں اور ایک بھائی بھی کام کرتے ہیں لیکن اس کے باوجودگھر کا خرچہ بمشکل پورا ہوتا ہے۔ اس نے بتایا کہ گھر کا کرایہ اور بجلی ، گیس کے بل دینے کے بعد ان کے پاس بمشکل کھانے کے لئے پیسے بچتے ہیں ۔ مہینے کے آخری دنوں میں فاقوں تک نوبت آجاتی ہے۔ ہماری ماں بیمار ہے لیکن ہمارے پاس اس کے علاج کے لئے پیسے نہیں ۔ گزشتہ ایک سال سے چھوٹے بہن بھائیوں کی تعلیم کا سلسلہ بھی رکا ہوا ہے۔
 
< Prev   Next >

The Struggle continues!