دادومیں ٹیکنیٹکل اداروں کی نجکاری کے خلاف ٹیکنیٹل ملاز Print E-mail
Written by PTUDC   
Wednesday, 24 June 2009

 

رپورٹ۔ کامریڈ ضیاءزﺅنر،23.06.2009۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ بیس مئی کو دادو میں سندہ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرہ ٹیکنیکل ایجوکیشن ویلفیئر فورم یونٹ دادوکی جانب سے کیا گیا جس میں ٹیکنیکل اداروں کے سینکڑوں ملازمین کے علاوہ درجن بھر پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کئمپن کے رہنما اور کارکنان بھی شامل تھے۔ ملازمین نے اسٹیوٹا نامنظور،اسٹیوٹا کے نام پر ٹیکنیکل اداروں کی نجکاری نا منظور، تعلیم مہنگی کرنا بند کرو، ٹیکنیکل ملازمین کا استحصال کرنا بند کرو،پینشن کی معطلی نامنظور نعرے لگاتے ہوئے پریس کلب پہنچے جہاں پہ مظاہرے کی کمپیئرنگ کامریڈ انور پنہور نے کی اور خطاب کرتے ہوئے کمرشل کالیج دادوکے انسٹرکٹر عزیز اللہ چنہ نے کہا کہ ہم کسی بھی صورت میںSTEVTA کے جھانسے میں رہ کر ٹیکنیکل اداروں کی نجکاری ہونے نہیں دینگے، اسٹیوٹا اتھارٹی قائم ہونے کے بعد ملازمین کو سروس سے فارغ کیا جائے گا، ان کی پینشن ختم کی جائے گی، ان کی بنیادی مراعات ختم کی جائیں گی، ہم حکومت سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں ایجوکیشن ڈپارٹمینٹ میں ہی رہنے دیا جائے، ہمیں اسٹیوٹامنظور نہیںہے۔ پی ٹی یو ڈی سی کے صوبائی صدر کامریڈ انور پنھور نے کہا کہ یہ نجکاری کی ایجنڈا ورلڈ بینک اورآئی ایم ایف کی ایجنڈا ہے، سینکڑوں اداروں اور یونٹس کی نجکاری کی جا چکی ہے جہاں پہ مزدوروں نے بھرپور احتجاج کرکے فتح یاب ہوئے ہیں، قادر پور گیس فیلڈ اورسٹیل ملز ہمارے سامنے مثال ہیں۔ جن اداروں کی نجکاری ہو رہی ان کے ورکرز اگر متحد ہو کر تحریک چلائیں تو ہم نجکاری کے عمل کو روک سکتے ہیں۔ ٹیکنیکل ایکشن کمیٹی کے رہنما ارشاد پنہور نے کہا کہ ہم چیف جسٹس اور صدر پاکستان کو گذارش کرتے ہیں کہ اس بات کا نوٹیس لیں کہ ہمارے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے اور ہمارے جو بھی خدشات ہیں ان کو دور کیا جائے اور واضع بتایا جائے کہ اسٹیوٹا کیوں بنائی جارہی ہے۔ اس کے بعد احتجاج ختم کیا گیا۔
 
< Prev   Next >

The Struggle continues!