کوٹری کی ایک مل مزدور خاتون کا انٹرویو Print E-mail
Written by PTUDC   
Wednesday, 04 November 2009

 

انٹرویو : کملا،02.11.2009۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حیدرآباد سندھ کے نزدیک کوٹری کے سائیٹ ایریامیں بہت سی ٹیکسٹائل ملیں ہیں جن میں خصوصاً دھاگہ اور کپڑا بنتا ہے ۔ان ملوں میں زیادہ تر خواتین کا م کرتی ہیں، ایسی ہی ایک مزدور سونی سے انٹرویو لیا گیا تو انہوں نے سوالوں کے کچھ اس طرح جوابات دیئے۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ سوال نمبر۔ آپ کو یہاں کام کرتے کتنا عرصہ ہوا ہے ؟اور آپ یہاں کام کرتے ہوئے خوش ہیں؟ جواب : میں یہاں تقریباً دس سالوںسے کام کررہی ہوں اور اس سے پہلے میں حیدرآباد کے نزدیک واقع انڈس ٹیکسٹائل مل ِمیں کام کرتی تھی جو اب بند ہوچکی ہے جس میں محمدی ملِ،چپیڑ مل ِاور کاف کاٹ ملِ شامل ہے ،یہاں کوٹری میں زیادہ تر وہی مزدور آتے ہیں جو پہلے وہاں کام کرتے تھے لیکن یہا ں بھی ملوںِ کی حالت ٹھیک نہیں ، یہ زیادہ تر بند رہتی ہے یاپھر کام کم ملتا ہے اسی وجہ سے بہت سے مزدوروں نے کراچی شہر کا رُخ بھی کیا ہے ۔اب رہا سوال آپ کے دوسرے سوال کا کہ میں یہاں کام کرکے خوش ہوں ؟ تو سب سے پہلے میں یہ بتا نا ضروری سمجھتی ہوں کہ میں پہلے اپنے شوہر کے ساتھ گاو¿ں میں رہتی تھی اور وہاں ہم کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے لیکن زمینداروں کے ظلم وجبر کی وجہ سے ہمیں ملوِں میں کام کرنا پڑا اور بہت سارے خاندان اسی وجہ سے یہاں آئے ہیں کیونکہ زمیندار کھیت کا کوئی حساب کتاب نہیں کرتے انتہائی مجبوری کے عالم میں بھی ہمیں پیسے نہیں دیتے تھے ،بچوں کا علاج تک بھی ہم نہیں کرواسکتے تھے آخر کار ہمیںگاو¿ں چھوڑنا پڑا اور جیسے ہی ہمیں ملوِں میں کام ملا تو ہم یہیں بس گئے ۔لیکن اس وقت ہم بہت پریشان ہیں کیونکہ آج پہلے کی نسبت مہنگائی کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے اور مزدوری نہیں بڑھی، پہلے ملیںکمپنیوں کی صورت میں چلتی تھیں اور اب ٹھیکیداری نظام کے تحت چل رہی ہیں پہلے ملوِں کے اندر کوارٹر دیے جاتے تھے لیکن اب ہمیں یہاں اپنے مکانوں کے کرائے دینے پڑتے ہیں ،پہلے زچگی کہ دوران تنخواہ کے ساتھ چھٹی دی جاتی تھی اب اس کا تصور بھی نہیں ہے ۔تو اب آپ خود فیصلہ کریں کہ ہم کیسے خوش ہوسکتے ہیں؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ سوال نمبر ۔ آپ کتنا کماتی ہیں ؟اور کیا آپکا گھر بار اس کمائی سے صحیح چل جاتا ہے ؟ جواب : میرے پانچ بچے ہیں جو چھوٹے ہیں ،میں اور میرا شوہر ہم دونوں ملِ میں کا م کرتے ہیں اس کے باوجود بھی گھر کا خرچہ بہت مشکل سے پورا کر پاتے ہیں ،زیادہ تر میری اور میرے شوہر کی چھٹیاں ہوجاتی ہیں کیونکہ ہمارے بچے چھوٹے ہیں اور ہم بچوں کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے ، اسی لئے ہم ایک ساتھ کام پر نہیں جاسکتے اگروہ دن کی ڈیوٹی کرتے ہیں تو میں رات کی ڈیوٹی کرتی ہوں ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ سوال نمبر ۔ کیا عورتوں سے رات کے وقت کام لیا جاتا ہے ؟ جواب : پہلے کبھی نہیں لیا جاتا تھا مگر گزشتہ تین سالوں سے بہت ساری ملوِں میں خواتین سے رات کے وقت بھی کام لیا جاتا ہے کیونکہ ٹھیکیداری کام میں ایسا نہ کرنے کی وجہ سے مزدوری سے فارغ ہونے کاخطرہ رہتا ہے ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔۔ سوال نمبر ۔ آپ مل ِ کے اند ر کیا کام کرتی ہیں اور آپ کو تنخواہ روز ملتی ہے یا مہینے پر ؟ جواب :زیادہ تر عورتیں گولا وائنڈنگ اور ریلنگ ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتی ہیں جہاں کام کے حساب سے مزدوری ملتی ہے جو پندرہ دنوں کے بعد یا مہینہ پورا ہونے پر دی جاتی ہے ۔میں گولا وائینڈنگ میں کام کرتی ہوں جہاں مجھے مزدوری بورے کے حساب سے ملتی ہے ایک بورے کی مزدوری چالیس روپے ہوتی ہے جس میں ڈھائی پونڈ کے چالیس گولے سوت کے دھاگے کے ہوتے ہیں یعنی ایک گولا ایک روپے کا پڑتا ہے اچھے سے اچھا کاریگر بھی آٹھ گھنٹے میں دو سو گولے نکال سکتا ہے اگر زیادہ مزدوری لینی ہے تو آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام کرنا پڑے گا اکثر عورتیں زیادہ کام کرتی ہیں اور اس طرح اُن کی مزدوری دو سو سے تین روپے ہوجاتی ہے اور جو ملیں ِکمپنیوں میں چل رہی ہیں اُن میں بھی اچھا فائدہ نہیں ہے ،وہ آٹھ گھنٹے کا م کروا کے دو سو روپے فکس دیتے ہیں جن میں کوئی چھٹی نہیں دیتے اگر کوئی مزدور چھٹی کرے تو اُن کے دو سو روپے کاٹ لیے جاتے ہیں ،اس کے علاوہ بھی میڈیکل ،رہائش ،بچوں کی تعلیم اور بونس کا کوئی نام و نشا ن نہیں ہے اس کی وجہ سے زیا دہ تر مزدور ٹھیکیداری میں کام کرنا پسند کرتے ہیں۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ سوال نمبر۔ مل ِ میں کام کرتے وقت وہاں کا ماحول کیسا ہوتا ہے؟ جواب: عورتوں کے لئے کام کرنے کی مشین علیحدہ ہوتی ہے مگر مرد بھی اُسی ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتے ہیںویسے تو اچھا ماحول ہوتا ہے مگر سارا دن پاو¿ں پر کھڑے ہو کر کام کرنے کی وجہ سے تھکاوٹ کچھ زیادہ ہوجاتی ہے اور بہت ساری خواتین بیمار ہوجاتی ہیں،اس کے علاوہ روئی کے ذرات اُڑنے سے بھی بہت سی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں خاص کر ٹی بی او ر سانس کی بیماریاں عام ہیں۔ملوِں میں زیادہ تر نوجوان اور غیر شادی شدہ لڑکیاں کام کرتی ہیں جنہیںکام بھی زیادہ دیا جاتا ہے اور وہ لڑکیا ں مجبور ہو کر تھکاوٹ سے بچنے کے لئے منشیات کا استعمال کرتی ہیں جن میں مین پوڑی ( تمباکو سے بنی ہوئی پُڑیا )عام ہے۔ تقریبا ًساری عورتیں وہ نشہ استعمال کرتی ہیںجن کی وجہ سے بھی بیماریاںہوتی ہیں خاص کر خون کی کمی اور پیلیا ہو جاتا ہے۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ سوال نمبر ۔ کوٹری کے سائیٹ ایریا میں تقریباً کتنی خواتین کام کرتی ہیں؟ جواب : ویسے تو بہت ساری عورتیں ملوِں کے علاوہ بھی کام کرتی ہیں لیکن ملوِں میں کام کرنے والی خواتین کی تعداد زیادہ ہے ہر ایک مل ِ میں پچاس سے سو عورتیں کام کرتی ہیں جن کی تعداد ایک ہزار سے پندرہ سو تک بھی ہوسکتی ہے ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سوال نمبر ۔ مستقبل کے بارے میں آپکا کیا خیال ہے ؟ساری زندگی کام کرنا ہے یا اور بھی کوئی کام کے بارے میں سوچاہے ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ جواب©: ملوِں میں جو کام کرنے آئے ہیں وہ عارضی کام کرنے آئے ہیں کسی نے بھی یہ نہیں سوچا کہ وہ ساری زندگی یہیں کام کرینگے لیکن جو دیہاتوں سے یہاں آتا ہے وہ واپس نہیں جاتا کیونکہ زراعت میں کام کرنا آج غلامی کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے ۔دیہات میں رہنے والے ہمارے لوگ بہت ہی کٹھن زندگی بسر کررہے ہیں ہم لوگ خود کو کسی حد تک اُن سے اچھا سمجھتے ہیں۔مگر ملوِں کے کام میں بھی اس وقت گزارا کرنا مشکل ہوگیا ہے بچوں کی تربیت نہیں کر پاتے یہاں تک کہ اُنہیں اسکول بھی نہیں بھیج پاتے۔ تھوڑے کچھ پرائمری تک پڑھ جاتے ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں ،آخر میں بڑے ہوکر ہمارے بچے بھی ملوِں میں ہی کام کرتے ہیں چند ایک خوش نصیب ہوتے ہیں جو کوئی ہنر سیکھ کر شہر میں کام کرنے لگتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سوال :آپ کے خیال میں ملوِں میں کونسا نظا م ہونا چاہیے ٹھیکیداری یاکمپنیوں والا اور تنخواہ کتنی ہونی چاہیے جس سے آپ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم بھی دے سکیں ؟ جواب :ٹھیکیداری سے پہلے ہم لوگوں نے کمپنیوں میں بھی کام کیا ہے لیکن اُس وقت کمپنیاں ایسی نہیں تھیں جیسی ہم آج دیکھ رہے ہیں اُس وقت مزدوروں سے آٹھ گھنٹے کام لیا جا تا تھا اور ہفتہ میں ایک چھٹی دی جاتی تھی، رہنے کے لئے کوارٹر اور میڈیکل کی سہولت کے علاوہ زچگی کے دوران تنخواہ سمیت تین مہینے کی چھٹی دی جاتی تھی لیکن وہ سب کچھ ختم ہوگیا ہے مزدوری بھی اُتنی نہیں ملتی جتنی اُس وقت کے حساب سے ملتی تھی بہت ساری عورتوں کو ابھی پینشن بھی ملتی ہے جو عمر میں بڑی ہیں۔میں سمجھتی ہوں کہ ملوِں کو اگر اس طرح چلایا جائے تو اچھا ہے ورنہ مجبوری کے عالم میں بھی کام تو کرنا پڑے گا ۔
 
< Prev   Next >

The Struggle continues!