پاکستان اسٹیل فولادی محنت کش دوبارہ اٹھ کھڑے ہوئے Print E-mail
Written by PTUDC   
Tuesday, 10 November 2009
رپورٹ: جنت حسین،05.11.2009۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان اسٹیل پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی ادارہ ہے جسے پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ محنت کشوں کے اس ادارے پر حکمرانوں نے شب خون مارنے کی کوشش کی اور اس کی نجکاری کا فیصلہ کیا لیکن محنت کشوں نے اپنی ناقابل تسخیر جدوجہد سے اس نجکاری کا منہ توڑ جواب دیا۔ اسٹیل مل میں بیس سال سے زیادہ عرصے سے ایک بڑی تعداد میں ملازمین ڈیلی ویجزاور کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں۔ ان ملازمین کو انتہائی سخت حالات میں کام کرنا پڑتا ہے ، خصوصاً ایسی جگہوں پر جہاں لوہا پگھلتا ہے اور وہاں درجہ حرارت سولہ سو سے سترہ سو ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ان حالات میں کام کرنے والے محنت کشوں کا ہرلمحہ خون خشک ہو رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح بہت سی ایسی دوسری جگہو ں پر بھی محنت کش کام کرتے ہیں جو صحت کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔ ان ڈیلی ویجز ملازمین سے ویلڈر، فٹر، گیس کٹر ، مشینسٹ، ڈرائیور، کاسٹر اور لیبر ورک جیسے مشکل ترین کام لیے جاتے ہیں۔ سابق چئیرمین اسٹیل مل نے اعتراف کیا تھا کہ مل کی ستر فیصد پیداوار ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ پر موجود ملازمین کرتے ہیں۔ لیکن اتنی محنت کے باوجود بھی یہ محنت کش بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور انہیں حکومت کی طرف سے اعلان کردہ کم ازکم تنخواہ چھ ہزار روپے بھی نہیں مل رہی۔ وزیراعظم نے اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں اعلان کیا تھا کہ وہ تمام ملازمین کے مستقل کرے گا۔ کے بعد متعدد دفعہ وزرائ، صدر اور وزیر اعظم اعلان کر چکے ہیں کہ ان ملازمین کو مستقل کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے وعدہ بھی کیا تھا کہ ان ملازمین کو دسمبر دو ہزار آٹھ سے پہلے مستقل کر دیا جائے گا۔ لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔چار مئی دو ہزار نو کو پیپلز ورکرز یونین کے جلسے میں ان ملازمین کو سبز باغ دکھائے گئے جس پر ورکرز نے سخت رد عمل ظاہر کیا تھا۔ یونین نے یقین دہانی کرائی تھی کہ تائیس جون تمام ملازمین کو مستقل کر دیا جائے گا۔ لیکن ان تمام یقین دہانیوں اور وعدوں کا ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا اور ابھی تک اسٹیل مل کی سی بی اے یونین ڈیلی ویجز ملازمین کے مطالبے تسلیم کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں سترہ اکتوبر کو کراچی پریس کلب کے سامنے ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کی جانب سے مظاہرہ کیا گیا جس میں ایک ہزار کے قریب متاثرہ مزدور شامل تھے۔ پی ٹی یو ڈی سی کے کارکنان بھی اس مظاہرے میں اسٹیل مل کے مزدوروں کے شانہ بشانہ شریک تھے۔ اس مظاہرے کے بعد ان ملازمین کی طرف سے پریس کانفرنس بھی کی گئی۔ اسٹیل مل کی سی بی اے یونین نے اس مظاہرے کو روکنے کے لیے ڈیلی ویجز ملازمین کی بہت منت سماجت کی لیکن ورکر اس دفعہ کسی دھوکے میں نہیں آئے۔ بالآخر سی بی اے یونین نے ِمل کی چھ گاڑیاں دے کر اسی دن صحافیوں کو ٹھٹھہ میں سیرو تفریح کے لیے بھیج دیا۔ اس دوران صحافیوں کو یونین فنڈ سے لاکھوں روپے کا کھان بھی کھلایا گیا۔ ان ہتھکنڈوں سے سی بی اے یونین اس خبر کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن تمام ڈیلی ویجز مزدور ثابت قدم ہیں اور اپنا احتجاجی سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں ان ملازمین نے پچیس اکتوبر کو گڑھی خدا بخش میں بینظیر بھٹو کے مزار پرمظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے کی قیادت ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کے اتحاد کے راہنماوں عبدالغفار بگھیو، ظہور میمن، شاہدبشیر، زاہد بگتی اور دیگر کر رہے تھے۔ اس مظاہرے میں ان راہنماوں نے واضح اعلان کیا کہ ا ب وہ حکمرانوں کے کسی جھانسے میں نہیں آئیں گے اور اگر ان کے مطالبات منظور نہ ہوئے تو و ہ اگلے مرحلے میں اسٹیل مل کو بند کرنے کی طرف جائیں گے۔
 
< Prev   Next >

The Struggle continues!