لکی سیمنٹ، پاکستان ریلوئے اور زرعی بینک کی مزدور تحریک Print E-mail
Written by PTUDC   
Tuesday, 10 November 2009
چنگاری ڈاٹ کام،09.11.2009۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رپورٹ: لکی سیمنٹ لکی مروت کے مزدوروں کی جدوجہد کامریڈ تاج علی کنڈی ،۔ دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام کا زوال انسانوں کی آبادی کی اکثریت کو برباد کر رہا ہے ۔پسماندہ ممالک میں یہ صورتحال اور بھی زیادہ خطرناک ہے۔کمیونزم کی ضرورت جتنی آج ہے شاید کبھی نہیں تھی۔اس کے لیے مزدوروں کو متحد اور منظم کرنے کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں لکی سیمنٹ کے کامریڈوں نے ایک طویل جدوجہد کی ہے اور یونین کے الیکشن کروانے کی یہ جدوجہد اب کامیابی سے ہمکنا ر ہونے جا رہی ہے۔یونین کے الیکشن کروانے کا حکمنامہ جاری ہو چکا ہے۔اس فیصلے کے خلاف انتظامیہ نے پشاور ہائی کورٹ سے بھی ر جوع کیا مگر انہیں وہاں بھی شکست ہوئی۔انتظامیہ کو گھریلو ملازمین کے صرف 3 فیصد ووٹوں کی حمایت حاصل ہے۔یہ ان کے سال ہا سال کے ظلم وستم کا منطقی انجام ہے۔اس ساری جدوجہد میں کامریڈ تاج علی کنڈی،محمد اسماعیل،شیر زمان،عبدلغفور،شاہ ویر،بسم اللہ جان، محمد اکرم خان،نعیم خان،سیف اللہ خان،میر عباس وغیرہ نے انتہائی سرگرم کردار دا کیا۔الیکشن میں ابھی کچھ روز باقی ہیں اور انتظامیہ تمام گھٹیا ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔اس مقصد کے لیے چند کرائے کے غنڈے بھی بلائے گئے ہیں۔مگر مزدور ہر مشکل کا سامنا کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔مزدوروں کو چالیس ہزار فی ووٹ کا لالچ بھی دیا جا رہا ہے۔مگر اب یہ مزدور نہ بکیں گے،نہ جھکیں گے بس آگے بڑھتے جائیں گے۔لکی سیمنٹ کے مزدوروں نے یہ عہد کیا ہے کہ وہ اس جدوجہد کو علاقے کی تمام شوگر ملز تک بھی لے کر جائیں گے۔اس سلسلے میں تمام مزدور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کیمپئین کے بھرپور تعاون کے بھی شکر گزار ہیں اور خاص طور پر کامریڈ سجاد ملک کی بے لوث خدمات کے بے حد مشکور ہیں۔اور امید کرتے ہیں کہ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کیمپئین سوشلسٹ انقلاب تک مزدوروں کے حقو ق کی جنگ اگلی صفوں میں لڑتی رہے گی۔سوشلسٹ انقلاب زندہ باد ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان ریلوے کے مزدوروں میں بڑھتا ہوا اضطراب ،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رپورٹ:کامریڈ سمیرا ،۔ عالمی معاشی بحران نے ساری دنیا کی معیشت کو برباد کر دیا ہے۔لیکن ہر جگہ پر مزدوروں کا استحصال بڑھا کر سرمایہ دار اس بحران سے نکلنے کی حکمتِ عملی بنا رہے ہیں۔پاکستان ریلوے کی نجکاری بھی اسی سلسلے ک ایک کڑی ہے۔لیکن محنت کشوں میں اس کے خلاف شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے۔خاص طور پر پاکستان ریلوے ٹریفک یارڈ سٹاف کے مزدور جو پچھلے کئی سال سے الاﺅنسز کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن ریلوے چیئرمین اور انتظامیہ مختلف حیلے بہانے کر کے محنت کشوں کے مطالبات کو ٹالتے چلے آ رہے ہیں۔ریلوے یارڈ سٹاف کے مرکزی صدر منیر چٹھہ کی کال پر مزدوروں نے چوبیس جولائی کو پہیہ جام کر دیا تھا۔اس کے بعد بھی بہت سی ہڑتالوں کی کوششوں کو انتظامیہ ناکام بنا چکی ہے۔لیکن مزدوروں نے ابھی حوصلہ نہیں ہارا۔ابھی کچھ دن قبل انتظامیہ اور مزدور قیادت کے مذاکرات ہوئے ہیں۔اگر انتظامیہ نے اپنے وعدوں پر عملدرا ٓمد نہ کیا تو محنت کش متحد ہو کر اپنے مطالبات منوانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان ورکرز فیڈریشن کی زرعی بینک کے ذکا اشرف کیخلاف احتجاجی تحریک ،۔ رپورٹ: کامریڈ چنگیز ،۔ پاکستان ورکرز فیڈریشن نے زرعی ترقیاتی بینک کے صدر ذکاءاشرف کے آمرانہ اور مزدور دشمن اقدامات کیخلاف احتجاجی تحریک کے سلسلے میں اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ میںدھرنا جاری ہے۔27اکتوبر کو پاکستان ورکرز فیڈریشن سے ملحقہ آل پاکستان اخبار فروش فیڈریشن کے سینکڑوں کارکنوں نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اور زرعی ترقیاتی بینک ایمپلائز یونین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔مظاہرین نے اپنے مطالبات اور بینک انتظامیہ کی ظالمانہ کاروائیوں کے خلاف بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان ورکرز فیڈریشن کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ظہور اعوان‘ ناردن پنجاب ریجن کے صدر ٹکا خان‘ آل پاکستا ن اخبار فروش فیڈریشن کے راہنما چوہدری شفیع ‘ زرعی بینک ایمپلائز یونین کے اقبال خٹک‘ پاک پی ڈبلیو ورکرزیونین کے جنرل سیکرٹری راجہ وقار حسین ‘ سی ڈی اے مزدو یونین کے سیکرٹری جنرل چوہدری محمد یاسین اور دیگر مزدور راہنماﺅں نے خطاب کیا۔انہوں نے کہا زرعی ترقیاتی بینک میں جعلی ریفرنڈم کروایا گیاجس سے دھونس اور دھاندلی کے تمام سابقہ ریکارڈٹوٹ گئے۔ فیڈریشن کی احتجاجی تحریک کا آغازچھابیس اکتوبر سے اسلام آباد پریس کلب سے برطرف عہدیداروں کے احتجاجی کیمپ سے شروع کردیا گیا ہے اور اسلام آباد سے فیڈریشن سے ملحق سترہ یونین سترہ دن تک روزانہ کی بنیاد پر زرعی ترقیاتی بینک کی مزدور قیادت کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر دھرنا دے رہی ہیں۔ سترہ دن کے بعد یہی تحریک راولپنڈی ضلع میں لیاقت باغ میں منتقل ہو جائے گی۔یہی تحریک مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں پورے پاکستان میں پھیل جائے گی۔
 
< Prev   Next >

The Struggle continues!