ہم نہیں مانتے حکمرانوں کے نئے ضابطے Print E-mail
Written by PTUDC   
Monday, 14 December 2009

 

چنگاری ڈاٹ کام،28.11.2009۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عظیم محنت کش ساتھیو اقتدار پر براجمان پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت سے محنت کشوں نے بہت ساری اُمیدیں وابستہ کی تھیں کہ پارٹی کی حکومت ہماری تلخ زندگیوں میں خوشحالی لائے گی ۔ سامراج اور مشرف آمریت کے ظالمانہ مزدور دشمن استحصالی پالیسیوں سے مکمل نجات دے گی ۔ بےروزگاری ، غربت ، بھوک ، افلاس ، تنگ دستی ، مہنگائی ، بیماری اور نجکاری سے آزادی دلائے گی ۔ محنت کشوں کی اُمیدیں اس دو سالہ دور ِ اقتدار میں بکھر گئی ہیں اور تمام اُمیدیں مایوسی میں بد ل گئی ہیں ۔ پارٹی کے دور اقتدار میں مہنگائی ، غربت اور بےروزگاری میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ نجکاری کو نئے نام سے متعارف کر کے ایک شرمناک طریقے سے لاکھوں محنت کشوںکو ملازمت سے بر خاست کرنے اور بچے کچھے اداروں کو کو ڑیوں کے مول فروخت کرنے اور بڑے پیمانے پر کمیشن حاصل کرنے اور اپنی تجوریوں کو بھرنے کےلئے سکیم کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ بے نظیر ایمپلائز سٹاک آپشن سکیم کا نام دیا گیا ہے ۔ سکیم کا مقصد یہ بتایا جا رہا ہے کہ جن اداروں کو نجکاری میں دیا جائے گا اس کے بارہ فیصد حصص محنت کشوں کو فروخت کئے جائینگے یعنی ان کو مالک بنا یا جائے گا ۔ جو انتہائی بھونڈا جھوٹ ، دھوکہ ، فریب اور محنت کشوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے ۔ سرمایہ دارانہ نظام کے سامراجی عہد میں عالمی اجارہ داریوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سرمایہ دار صنعتی پےداوار سے منافع حاصل نہیں کر رہے بلکہ وہ سٹاک ایکس چےنج کے حصص کی خرید و فروخت اور سٹہ بازی سے بڑے پیمانے پر منا فع حاصل کر رہے ہیں ۔ پچھلے تین سالوں سے مالیاتی اداروں کی زوال پذیری اور سٹاک ایکس چینج کے کریش سے سرمایہ داروں کے اربوں روپے ڈوب گئے ۔ اےسے میں محنت کش طبقہ اور بارہ فیصد حصص رکھنے والے ملازمین کس طرح سٹاک ایکس چینج کے جوئے خانے سے مستفید ہو سکتے ہیں ۔ یہ ایک ناممکن امر ہے ۔ شروع میں سرمایہ دار سٹاک ایکس چےنج میں حصص کی قیمتوں کو بڑھاتے ہیں اور جب چھوٹے کاروباری خواتین و حضرات خوش فہمی میں مبتلا ہو کر حصص خرید تے ہیں تو بعد میں یہی سرمایہ دار حصص کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کر دےتے ہیں جس سے ان کی تمام جمع پونجی ختم ہو جاتی ہے ۔ موجودہ حکومت کی پالیسی بھی محنت کشوں کے ساتھ اسی طرح ہے ۔ محنت کشوںکو بارہ فیصد حصص دےنے کا جھانسہ دے کر سٹاک ایکس چینج کے ذریعے پانچ لاکھ محنت کشوں کو ہمیشہ کے لئے خالی ہاتھ اداروں سے نکالنا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محنت کش ساتھیو ! پیپلز پارٹی کی موجودہ جاگیر دار ، سرمایہ دار ، جرنیل اور آمریت کی پےداوار قیادت بڑی شرمناک اور بے غیر تی سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کومیڈیا میں ایک انقلابی اقدام گردان رہی ہے کہ یہ پالیسی جنوب مشرقی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں کامیا ب ترین پالیسی ہے ۔ اس پالیسی سے پانچ لاکھ محنت کشوں کو فائدہ پہنچے گا ۔ وزیر نجکا ری نوید قمر نے بتا یا کہ نو اَ رب کے ایک سو ستاسٹھ سودے کر لئے گئے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت پارٹی کے بنیا دی دستاویز اور انس سو ستر کے پروگرام سے مکمل رو گردانی کر رہی ہے ۔ حالانکہ انیس سو ستر کے پارٹی منشور میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ تمام سامراجی اور قومی سرمایہ داروں کے صنعتوں کو قومی تحویل میں لے کر محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے گا۔اسکے بر عکس موجودہ ضیاءآمریت کی پےدا کر دہ وزیر اعظم گیلانی بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی سے کہہ رہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی نیشنلائزیشن کی پالیسی غلط تھی ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ محنت کش دوستو ! ۔ نجکاری کی یہ پالیسی ترقی یافتہ ممالک میں ناکام ثابت ہوئی ہیں اور مشرف دور میں جتنی بھی نجکاری کی گئی ، وہ ادارے عوام اور محنت کشوں کےلئے عذاب بن چکی ہے ۔ کے ای ایس سی اور پی ٹی سی ایل اور دیگر اداروں کی حالت انتہا ئی تشویشناک ہو چکی ہے ۔ ان اداروں سے اب تک ہزاروں محنت کشوں کو ملازمتوں سے نکال دیا گیا ہے جو آج کے معاشی بحران میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ اب اگر فلاحی اداروں جےسے پوسٹ آفس ، رےلوے ، تعلیم اور صحت کے اداروں کو فروخت کیا جا تا ہے تو اس سے مہنگائی اور بے روزگاری کا ایک اور طوفان اُمڈ آئے گا ۔ محنت کشوں کو بارہ فیصد حصص دےنے کے در پردہ حکمران محنت کشوں کو مالک بنانے کا جھانسہ دے کر مزدور وں کی جد و جہد اور تحریک کو توڑ کر زائل کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں ۔ تاکہ محنت کش نجکاری کی مخالفت نہ کریں اور وہ آسانی سے اداروں کو کوڑیوں کے مول فروخت کر کے اپنے کمیشن حاصل کریں اور محنت کشوں کو پنشن، گریجویٹی اور دیگر مراعات دیئے بغیر ہی ملازمت سے فارغ کیا جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محنت کش ساتھیو ! اب ہمیں اب اپنی بقاءکی حتمی جنگ لڑنا ہوگی اور حکمرانوں کی موجودہ پالیسیوں کو یکسر مسترد کر تے ہوئے ملکی سطح پر تمام اداروں کے محنت کش اکٹھے ہو کر نجکاری کے خلاف کمر بستہ ہو جائیں ۔ حکمرانوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا کر استحصال ، ظلم وجبر ، بر بر یت ، مہنگائی ، غربت ، بیماری ، بے بسی اور لاچاری کا طوق گلے سے اُتار کر ایک سوشلسٹ انقلاب بر پا کیا جائے ، تاکہ ہمیشہ کے لئے استحصال اور محرومی کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ مطالبات ۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نام پر نجکاری کی مجرمانہ پالیسی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نجکاری میں دیئے گئے تمام اداروں کو دوبارہ قومی تحویل میں لے کر محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمام سامراجی پالیسیوں بشمول نجکاری ، ڈاﺅن سائزنگ ، رائٹ سائزنگ ، ری سٹرکچرنگ اور ڈی ریگولےشن کا خاتمہ کیا جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ تمام کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے اور کنٹریکٹ پالیسی کو ختم کیا جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ جبری بر طرفیوں کا صدارتی آرڈنینس دو ہزار کا خاتمہ کیا جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ مہنگائی اور بےروزگاری کا خاتمہ ۔ صحت ، علاج ، تعلیم، بجلی اور گیس کی عوام کو مفت فراہم کیا جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ملازمین کی تنخواہ کم از کم ایک تولہ سونے کے برابر کیا جائے ، اوقات کار کو کم کرکے ہفتہ وار پنتیس گھنٹے کیا جائے ۔

 

 
< Prev   Next >

The Struggle continues!