The PTUDC website has been revamped in order to allow us to update the site on a more regular basis. We hope you like the new design!
| مالاکنڈ میں ایپکا کا ملازمین کی تنخواہیں نہ ملنے پر احت |
|
|
| Written by PTUDC | |
| Monday, 14 December 2009 | |
|
رپورٹ:گوہر علی گوہر،10.12.2009۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آل پاکستان کلرکس ایسوسی
ایشن ملاکنڈ ایجنسی کے صدر ملک فضل ربی کی کال پر تمام سرکاری اداروں کے
ملازمین نے نیشنل بینک اور حبیب بینک کی طرف سے ان کی تنخواہیں بند کرنے
کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ۔احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایپکا
ملاکنڈ کے صدر ملک فضل ربی ،جنرل سیکرٹری سلیم خان ،وحدت اساتذہ کے صدر
حبیب الحق، آل ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر غلام سرور، صوبائی جنرل سیکرٹری
محمد ستار، پیرا میڈیکل کے جنرل سیکرٹری کمال الدین، درجہ چہارم کے صدر
پیر سعید خان وغیرہ نے کہاکہ نیشنل بینک ملاکنڈ سمیت تمام شاخوں اور حبیب
بینک ملاکنڈ کی مختلف برانچز نے تمام سرکاری اداروں کے ملازمین کی
تنخواہیں ایڈوانس تنخواہوں کی مد میں لینے والے قرضہ کی اقساط کی ادائیگی
کیلئے یکمشت وصول کرنے کیلئے روک لی ہےں مگر سرکاری اداروں کے ملازمین
مذکورہ اقساط یکمشت ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہےں اس وجہ سے بینک حکام
غریب ملازمین سے یکمشت وصولی کی بجائے بجلی بلز کی طرح مناسب اقساط میں یہ
وصولی کریں تا کہ ان کے گھریلو اخراجات بھی چل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ
عیدالضحیٰ آنے والا ہے اورا س دوارن بینکوں کی طرف سے ان کی تنخواہیں
روکنا ان ملازمین کے مسائل میں اضافے کا سبب بنے گا اس لئے وہ دونوں
بینکوں کے چئیر مین ، صدور اور دیگر حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کی
ادائیگی اقساط کیلئے مناسب طریقہ کار وضع کیا جائے اورچھ مہینے سے موت اور
زندگی کی کشمکش میں مبتلا غریب سرکاری ملازمین کو مزید پریشانی میںمبتلا
کرنے سے گریز کیا جائے۔ انہوںنے دھمکی دی کہ دو دن کے اندر اگر ملازمین کو
تنخواہیں ادا نہ کی گئیں تو وہ جی ٹی روڈ ملاکنڈ پر دھرنا دیکر شدید
احتجاج کریں گے اور مذکورہ دونوں بینکوں کی تمام برانچز میں اکاونٹس ختم
کرکے اپنے اپنے محکموں کے سرکاری اکاو¿نٹس بھی دیگربینکوں میںمنتقل کرنے
سے گریز نہیں کریں گے ۔کامریڈ غفران احد نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا
کہ عرصہ دراز سے اس ملک میں محنت کش طبقے کے مسائل کو حل کرنے کیلئے کوئی
بھی ادارہ کردار ادا نہیں کررہا حالانکہ تمام اداروں کو چلانے والے غریب
محنت کش ہوتے ہیں خواہ وہ فیکٹری میں کام کرنے والے ہوں یا سرکاری ادارہ
میں کام کرنے والے غریب ملازمین ہوں یہی لوگ سب کام کرتے ہیں مگر انہیں
درپیش مسائل حل کرنے کیلئے کوئی بھی بیورکریٹ، ملز مالک، یا سیاستدان عملی
طور پر کوشش نہیں کرتے۔ انہوںنے کہا کہ محنت کش طبقے نے اگرمتحد ہوکر اپنے
مسائل حل کرنے کیلئے آواز اٹھائی تو دنیا کی کوئی طاقت ان کے حقوق پر ڈاکہ
ڈالنے کی جرات نہیں کریگی ۔ آل گورنمنٹ ایمپلائیز کوآرڈینیشن کونسل ملاکنڈ
کے صدر ڈاکٹر سعید الرحمان نے کہا کہ پالیسی ساز اداروں پر چند سرمایہ
داروں اور جاگیر داروں کا قبضہ ہے اور وہ غریب سرکاری ملازمین یا محنت کش
طبقے کے مسائل کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے ، ملاکنڈ ڈویژن میں مسلط کی گئی
جنگ کے نام پر حکمرانوں نے اپنے بیرونی آقاوں سے کروڑوں اربوں ڈالر امداد
حاصل کی ہے مگر اسے ملاکنڈ ڈویژن کے متاثرہ عوام پر خرچ کرنے کے بجائے
ذاتی استعمال میں لایا گیا ہے ۔ بعد ازاں سرکاری ملازمین کے مسائل سے ڈی
سی او ملاکنڈ اور بینک حکام کو آگاہ کرنے کیلئے ایک دس رکنی کمیٹی تشکیل
دی گئی جس میں ڈاکٹر سعیدا لرحمان، ملک فضل ربی، غفران احدا یڈوکیٹ ، سلیم
خان، گوہر علی گوہر، سعید خان، حبیب الحق، عبدالرحیم، عنایت اللہ، رحیم
بخت اور سہیل خان شامل ہیں۔
|
| < Prev | Next > |
|---|
The Struggle continues!