ملتان میں ٹریفک وارڈن اور ریلوئے کمپیوٹر خواتین کے مسا Print E-mail
Written by PTUDC   
Tuesday, 22 December 2009

 

رپورٹ ۔ کامریڈانعم،16.12.2009۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یوں تو پاکستان کے ہر شعبے اور ادارے کے اندر محنت کشوں کے ساتھ مسائل اور مصائب شدت سے جڑے ہوئے ہیں مگر خاص طور پر کام کرنے والی خواتین کے ساتھ جودوہراتہراحشرہے وہ نہ صرف مجموعی طورپر بلکہ انفرادی سطح پر کام کرنے والی ان مزدورخواتین کے ساتھ نہ صرف ایک مذاق ہے بلکہ اسے اگر سراسر غےر انسانی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ پاکستان ریلوے بھی انہی استحصال زدہ اداروں میں سے ایک ہے جس میں کام کرنے والی خواتین کے مسائل قابل ذکر بھی ہیں اورقابل توجہ بھی۔ اس کی ایک جھلک ہمیں ملتان ریلوے کے آئی ٹی سنٹر میں کام کرنے والی خواتین کی حالت زار سے معلوم ہوتی ہے۔ اکیسوےں صدی میں رہتے ہوئے کمپیوٹر کا استعمال ایک اہم کام اور ذمہ داری تصور کیاجاتاہے۔ مگر ملتان ریلوے میں کمپیوٹر کے کام سے منسلک خواتین کارکن کی معاشی حالت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اس صلاحیت سے منسلک ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہورہاہے۔ اضافی کمپیوٹر الاﺅنس سے محروم ان کارکن خواتین کمپیوٹر استعمال کرنے کا الاﺅنس کمپیوٹر کےلئے استعمال ہونے والی بجلی کی قیمت کی مد میں کاٹ لیا جاتا ہے۔ اور یہ بتایا گیاہے کہ ایسا صرف ملتان ڈسٹرکٹ میں ہی ہورہاہے۔ ان کارکن خواتین کی بنیادی تنخواہ سنتالیس سو روپے ماہانہ ہے جبکہ حکومت وقت کے سرکاری اعلان کے مطابق ایک محنت کرنے والے کی کم از کم تنخواہ چھ ہزارروپے ماہوار مقررہے ۔ یوں اس بھیانک اور مہلک مہنگائی کے دور تنخواہوں میں یہ کمی اور الاﺅنسزمیں کٹوتی نے ان کارکن خواتین کی مشکلات میں جو اضافہ کیاہواہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ پٹرول وغیرہ کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کی وجہ سے مقامی سفر بھی بہت مہنگا ہوچلاہے ۔ روزانہ کام پر جانے والوں کوتو یہ سفر اور بھی مہنگا پڑرہاہے۔ اس مد میں جو کنوینس الاﺅنس دیاجاتاہے وہ بھی انتہائی کم ہے اور فقط سات سو روپے ہے جو کہ دور دراز سے دفتروں میں کام کےلئے آنے والی ملازمت پیشہ خواتین کےلئے بالکل ناکافی ہے۔ کمپیوٹر سمیت ریلوے کے دوسرے شعبوں میں جو ایک اور اہم مسئلہ سامنے آیاہے جو کہ بنیادی طورپر ہر محنت کش کا مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ کئی سال گزرنے کے باوجود ان ملازمین کے سکیلوں میں اضافہ نہیں کیا جارہاہے اور نہ ہی ان کی کوئی پروموشن کی جارہی ہے۔ آئی ٹی سنٹر کی کارکن خواتین نے دو ہزار میں ریلوے میں ملازمت شروع کی تھی لیکن آج تک ان کے سکیلوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ مہنگائی کے اس بدترین دور میں کم تنخواہوں کی وجہ سے کئی ملازمین اس ذلت سے تنگ آکر اپنی ملازمتیں چھوڑ چکے ہیں ۔ محرومیوں اور ذلتوں کی یہ داستان صرف یہیں ختم نہیں ہوتی ہے۔ ان مزدورخواتین کی تنخواہوں سے ان کے ڈربہ نما کوارٹروں کی مرمت کی مد میں بھی کٹوتیاں کی جاتی ہیں ۔ جبکہ یہ بوسیدہ اور تنگ کوارٹرپچھلے کئی سالوں سے مرمت چاہتے ہیں مگر یہ مرمت تاحال نہیں ہوئی۔ اس دوران ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان ریلوے ملک بھر میں اپنے ملازمین کو کم تنخواہ دینے والا ادارہ بن گیا ہے۔ جو کہ اس ادارے کے ملازمین کی حالت اور خود ادارے کی صلاحیت بارے کئی سنجیدہ سوالات پیدا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ملتان میں خواتین ٹریفک وارڈن کے مسائل ،۔ ۔ ۔ رپورٹ :کامریڈانعم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پنجاب کے پانچ اضلاع لاہور ،گوجرانوالہ ، راولپنڈی ، فیصل آباداور ملتان میں حکومت نے تین سال کے کنٹریکٹ پر خواتین ٹریفک وارڈن بھرتی کی ہیںجن کا کام شہروں میں ٹریفک کے نظام کو سنبھالنا اور چلانا ہے ۔ نزع کے عالم میں پہنچے ہوئے لیکن بغیر مارے نہ مرنے والے اس نظام میں ٹریفک کے معاملات کو چلانے والی ان ٹریفک پولیس وارڈنزکی اپنی تکالیف بھی بہت زیادہ ہیں ۔ ہماری ملاقات ایک ایسی ہی وارڈن سے ہوئی لیکن انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہم سے بات کی اورکہا کہ میں نے یہ نوکری اس کے مستقل ہونے کے امکان پر کی ہے ۔ دن بھر سڑکوں پر کھڑے ہوکر انہیں یہ احساس ہواہے کہ بڑے پیمانے پر ان کو سماج میں اس پوزیشن پر قبول نہیں کیا جارہاہے۔ سماجی حوالے سے بہت سے مسائل کا سامنا کرناپڑتا ہے ۔ مثال کے طورپر اکثر چالان ہونے والے اس بات پر نالاں ہوجاتے ہیں کہ ایک لڑکی یا ایک عورت ان کا چالان کررہی ہے ۔ جبکہ دوسری طرف ایسے ذہنی بیمار بھی ہوتے ہیں جو کہ اسی بات کو اپنے لئے باعث مسرت سمجھتے اور خوش ہوتے ہیں۔ ہماری مقررہ تنخواہ تو سولہ ہزار ہے لیکن اس میں سے بھی بہت سی کٹوتیاںہوجاتی ہیں ، نوکری کرنے کی وجہ سے اپنے اپنے گھروں کو بھی چلانا ہوتا ہے ،جبکہ ہمیں صر ف اپنی نو کری کےلئے آنے جانے ، اورپھر رہائش اور کھانے پینے پر ہی کافی اخراجات ہوجاتے ہیں کیونکہ ہمارے لئے کسی ہاسٹل یا رہائشی کالونی کی کوئی سہولت نہیں ہے ۔ ان حالات کار میں اکثروبیشتر ہماری تنخواہوں میں سے گھر کےلئے کچھ بھی نہیں بچ پاتا۔ اس پر مہنگائی میں دن بدن اضافے نے زندہ رہنے کو اور بھی مشکل تر بنادیاہواہے۔ ہم کام کرنے والی لڑکیوں میں سے اگر کسی کی شادی ہوجاتی ہے تو صورتحال ہمارے لئے اور بھی سنگین و اذیت ناک ہوجاتی ہے۔ کسی دوسرے شہر میں شادی ہونے کا مطلب نوکری سے ہاتھ دھوناہے۔ کیونکہ تبادلہ تقریباناممکن ہوتاہے ۔ اگر کسی نہ کسی طرح نوکری بحال بھی رہے تو زچگی وغیرہ کےلئے کوئی چھٹیاں نہیں دی جاتیں۔ حالانکہ باقی سرکاری محکموں میں کام کرنے والی خواتین کو یہ سہولت میسر ہے۔ انہیں تنخواہ سمیت تین ماہ کی رخصت ملتی ہے ۔ ہمارے ادارے میں ایک ماہ کی چھٹی ملتی ہے وہ بھی بغیر تنخواہ کے۔ صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک کھڑے رہناپڑتا ہے۔ جبکہ کسی بھی معمولی غلطی پر ہمارے افسران ہمیں ملازمت سے برخاست رکھنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ دوسری طرف ہمیں کسی بھی وقت کسی بھی جگہ چوبیس گھنٹوں کےلئے ڈیوٹی دینے کےلئے بھی بلایا جاتا ہے ۔ وزیراعظم اور وزیروںکا شہرہونے کی وجہ سے کام ایک سختی میں بدل جاتا ہے ۔ جس دن بھی وزیراعظم نے آنا ہوتا ہے ‘ سارے شہر کی ٹریفک درہم برہم اور معطل ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح کوئی بڑا جج گزررہاہواس کےلئے بھی عوام کےلئے سڑکیں بندکرنی پڑجاتی ہیں۔ اور یوں ہمیں اپنے ہی لوگوں کی نظروں سے گرنا پڑ جاتا ہے ۔ ہمیں جس قسم کے مسائل کا سامناکرناپڑتا ہے ان کو ہم نہ تو کہیں پیش کرسکتے ہیں نہ ہی ان کے لئے احتجاج کا تصور کر سکتے ہیں۔ کسی مسئلے پر کسی افسر سے بات کرنے کا ایک ہی مطلب اور ایک ہی نتیجہ نکلتاہے اور وہ نوکری سے فراغت۔ کہیں تو کس سے کہیں کریں تو کیا کریں! ۔
 
< Prev   Next >

The Struggle continues!