The PTUDC website has been revamped in order to allow us to update the site on a more regular basis. We hope you like the new design!
| بے نظیر ہسپتال راولپنڈی سے ثمینہ تبسم کا انٹرویو |
|
|
| Written by PTUDC | |
| Tuesday, 22 December 2009 | |
|
رپورٹ ۔ چنگیز ملک،15.12.2009۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج کا پاکستانی سماج ایک ایسا
سماج ہے کہ جس نے لوگوں کے اندر جینے کی تمنا ختم کر کے رکھ دی ہے ۔ ہر
روز پاکستان میں محنت کش طبقہ مختلف قتل گاہوں میں جاتا ہے اور اپنے
ناکردہ گناہوںکی سزا بھگت رہا ہے ۔ کبھی معاشی قتل ، کبھی دہشت گردی ،
کبھی معاشرتی قتل پاکستانی سماج کا معمول بن چکے ہیں ۔ محنت کش طبقہ زندہ
رہنے کی پاداش میں روزانہ مارا جارہا ہے ۔ معاشرتی نا ہمواریوں اور طبقاتی
تفریق نے مرد و زن کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے اور پھر اس طبقاتی
معاشرے میں عورت ہونا سب سے بڑا جرم دکھائی دیتا ہے ۔ بے نظیر ہسپتال
راولپنڈی میں نرسنگ کے شعبے سے منسلک محترمہ ثمینہ تبسم جو شاعرہ بھی ہیں
اپنی عملی زندگی میں پیش آنے والی ناہمواریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں
کہ اس طبقاتی معاشرے میں ایک عورت کا عورت ہونا سب سے بڑا جرم ہے اور
بالخصوص نرسنگ کے شعبے سے منسلک خواتین کو انسان تو سمجھا ہی نہیں جاتا ۔
بعض اوقات مریضوں اور مریضوں کے لواحقین اور ہمارے ڈاکٹر صاحبان کا رویہ
ہمارے ساتھ انتہائی توہین آمیز ہوا کرتا ہے۔ پوری دنیا میں عورتوں پر ہونے
والے ظلم و تشدد کا بڑا واویلا کیا جاتا ہے ، بڑے بڑے سیمینار منعقد کیے
جاتے ہیں ۔ خواتین کے حقوق پر بڑے بڑے بھاشن دیئے جاتے ہیں لیکن پر پوری
دنیا میں بالعموم اور پاکستان جیسے پسماندہ ممالک میں بالخصوص عملی طور پر
کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جاتے ۔ بلکہ ہر آنے والا دن یہاں کے مرد و زن
محنت کشوں کے مسائل میں اضافہ کررہا ہے میں ان معاشرتی ناہمواریوں اور ظلم
و تشدد کا اظہار اپنی شاعری میں بھی کرتی ہوں ۔ ضیاءالحق کے مارشل لاءکے
دور میں اس عہد کی تاریکی پر ایک مضمون لکھا ۔ جب میں بہاولپور پور میں
تھی تو پیرا میڈیکل سٹاف کی صدر منتخب ہوئی اور نرسنگ کے شعبے سے منسلک
خواتین کے مسائل کے لئے کام کیا۔ میرے شوہر ڈاکٹر ہیں دو بیٹیاں اور ایک
بیٹا ہے ایک اچھی زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن گزارا کرنا مشکل ہو
جاتا ہے ، تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہوتا ہو گا جو چھ ہزار روپے ماہانہ
تنخواہ لیتے ہیں یا پھر جو بیروزگاری کا شکار ہیں ان کی زندگیاں کس قدر
تلخ اور دشوار ہوتی ہوں گی ۔ اس طبقاتی سماج میں عورت کو مختلف طریقوں سے
دبایا جاتا ہے ۔ ان معاشرتی اور معاشی ناہمواریوں کی سب سے بڑی وجہ ہمارے
ملک میں سرمایہ دار اور جاگیر دار طبقہ ہے جو ہم سب کو گھن کی طرح کھا رہے
ہیں ۔ مجھ سے ظلم برداشت نہیں ہوتا اس طبقاتی سماج میں ان ناہمواریوں نے
انسانی ذہن کو ماﺅف کر دیا ہے ۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے انسانوں کی
اکثریت کو روٹی‘ کپڑا اور مکان جیسے بنیادی سہولیات سے محروم کر دیا ہے۔
ہماری ملک کے جاگیر دار اور سرمایہ دار لوگوں کو اذیت بھری زندگی دے رہے
ہیں۔ ہم تمام محنت کشوں کو یہ سوچنا ہو گا کہ غربت ،بھوک ، بیماری ، بے
روزگاری، دہشت گردی قتل و غارت گری ہمارا مقدر نہیں بلکہ ان تمام تر
محرومیوں ، محکومیوں کی بنیادی وجہ موجودہ غیر منصفانہ نظام ہے ۔ ہمیں من
حیت الطبقہ خود کو متحد کرنا ہوگا اور ایک سیاسی لڑائی لڑتے ہوئے اس
جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑ کر ، اقلیت کی حکومت کو ختم
کر کے تمام محرو موں ، محکوموں اور مجبوروں کی اکثریت کی حکومت کو قائم
کرنا ہوگا یہی ایک واحد راہ نجات ہے اور دوسرا کوئی رستہ نہیں ہے ۔ آخر
میں محترمہ نے اپنے چند اشعار سنائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گئی رتوں
نے جو زخم بخشے ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ اب ان پہ کوئی کتاب لکھوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عجیب
عالم ہے وحشتوں کا ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سمندروں کو سراب لکھوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وہ جن کی عزت نہیں ہے دل میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں ان کو عزت مآب لکھوں؟ ۔
|
| < Prev | Next > |
|---|
The Struggle continues!