ایمپلائز ویلفر سوسائٹی بلوچستان- تقریب حلف برداری Print E-mail
Written by PTUDC   
Monday, 11 January 2010
رپورٹ ۔ کامریڈ نذر مینگل، 11.01.2010۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایمپلائز ویلفر سوسائٹی بلوچستان انجینئر نگ یونیورسٹی خضدار کے نو منتخب عہدیداروں کی حلف بردای یونیور سٹی کیفے رٹیریا میں منعقد ہوا۔ تقریب حلف برداری میں انجینئرنگ یونیورسٹی کے محنت کشوں کے علاوہ دیگر یونینز کے رہنما اور طلباءتنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی ۔ جن میں بولان مائننگ انٹر پرائز ورکرز یونین سی۔ بی۔ اے، نےشنل آرگنا ئزےشن آف پوسٹل ایمپلائز یونین سی۔ بی۔ اے، پبلک ہےلتھ ایمپلائز یونین سی ۔ بی۔ اے، بی۔ ایس ۔ او آزاد ، انجمن بازار ایسو سی ایشن موجود تھے۔ تقریب حلف برداری کی صدارت نو منتخب صدر غوث بخش بلوچ اور سٹیج سیکر ٹری کے فرائض نو منتخب جنرل سےکر ٹری سرور نے انجا م دیئے ۔ جبکہ مہمان ِ خاص انجینئر نگ یونیورسٹی کے آفیسر محمد عالم تھے۔اعزازی مہمان سابقہ مزدور اتحاد کے چیئر مےن اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپین کے مرکزی جنرل سےکر ٹری کامریڈ نذر مینگل اور بازار انجمن کے صدر عطااللہ محمد زئی مینگل تھے۔ نو منتخب عہدیداران سے کامریڈ نذر مینگل نے حلف لیا ۔عہدیداران میں صدر غوث بخش بلوچ، نائب صدر عبدالرحمان مینگل ، جنرل سےکر ٹری سر ور ، جوائنٹ سےکر ٹری مہر اللہ ، پرےس سےکر ٹری عبد الواحد ، آفس سےکر ٹری عبد الوہاب اور فنانس سےکر ٹری غوث بخش مینگل شامل تھے ۔ حلف کے بعد درج ذیل رہنماﺅں نے تقریب سے خطاب کیا ۔ بی۔ایس ۔ او آزاد کے عمر بلوچ ، عطا اللہ محمد زئی ، کامریڈ نذر مےنگل ، محمد عالم جتک اور غوث بخش بلوچ۔ مقررین نے اپنے خطاب میں نو منتخب کابینہ کو جمہوری انداز میں منتخب ہو نے پر مبارک باد پےش کر تے ہوئے کہا کہ نو منتخب کا بینہ کو کارکنوں اور محنت کشوں کے اجتماعی مفادات اور حقوق کے حصول اور ادارے کی ترقی کےلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا ہو گا اور اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈالنا ہو گا ۔ مقررین نے کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام کی متروکیت کی وجہ سے آج پوری دنیا میں محنت کشوں کا استحصال شدت سے جاری ہے۔ آج جتنی بھوک ، افلاس ، بیماری ، بیروزگاری اور جہالت ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہیں تھی ۔ لاکھوں انسان روزانہ صاف پانی اور خوراک کے نہ ملنے اور لا علاجی کی وجہ سے مر رہے ہیں ۔ امیر ، امیر تر اور غریب ، غریب تر ہو تے جا رہے ہیں ۔ پاکستان کی موجودہ نام نہاد جمہوریت امریکی سامراج کی زیر عتاب ہے ۔ موجودہ حکمران طبقہ امریکی سامراج اور عالمی مالیاتی اداروں کے مزدور دشمن نسخوں کو محنت کشوں پر بے رحمی سے لاگو کر رہے ہیں ۔ تراسی اداروں کو نجکاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی بنیا د پر فروخت کر رہے ہیں ۔ بجلی کے بحران سے ملک کے تمام پاور لومز فیکٹریا ں بند ہو رہی ہیں ۔ جس سے لاکھو ں مزدور بے روزگار ہو رہے ہیں ۔پاکستان میں غربت کی وجہ سے روزانہ سات افراد خود کشی کر رہے ہیں ۔ مقررین نے مزید کہا کہ آج تعلیمی اداروں کی حالت دگر گوں ہو چکی ہے ۔ تعلیمی اداروں میں سائنسی آلات اور دیگر سہولیا ت نہ ہونے کے برابر ہے۔ بڑھتی ہوئی فیسوں نے غریب طلبا کو تعلیم سے محروم کر دیا ہے ۔ بلوچستان انجینئر نگ یونیورسٹی میں طلبا اور محنت کشوں کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آخر میں مقررین نے بتا یا کہ آج ملک میں صورتحال یہ ہے کہ اب حکومتوں کی تبدیلی اور حکمرانوں کے چہروں کی تبدیلی سے محنت کشوں اور نو جوانوں کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ۔ بلکہ مزید تلخ ہو جاتی ہے۔ اس لئے اب اس نظام کو بدلنا ہو گا ۔ طلبا ، نوجوان اور محنت کش طبقہ مل کر اس استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کے لئے طبقاتی جنگ کو تیز کرکے سوشلسٹ انقلاب بر پا کر کے طبقاتی نظام کو اکھاڑ پھےنکا جائے ۔
 
< Prev   Next >

The Struggle continues!