پی ٹی سی ایل میں ریفرنڈم ۔ نجکاری کا خاتمہ ہی تمام مسائل Print E-mail
Written by PTUDC   
Tuesday, 19 January 2010
چنگاری ڈاٹ کام،19.01.2010۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پی ٹی سی ایل کے عظیم محنت کش ساتھیو! سرخ سلام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پی ٹی سی ایل کے محنت کش ساتھیوں کی بے مثال جدوجہد کے نتیجے میں ایک دفعہ پھر یہاں ریفرنڈم منعقد کروایا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا اہم موقع ہے جس میں اگر ہم درست حکمت عملی اپنائیں اور درست قیادت کو چنیں تو ہم اپنے مسائل اور مطالبات کو منوانے میں اہم پیش رفت کر سکتے ہیں۔ یہ ریفرنڈم ایک ایسے وقت میں کروایا جا رہا ہے جب حکمران طبقے کی جانب سے محنت کشوں پر بد ترین حملے کیے جا رہے ہیں ۔ مہنگائی، بیروزگاری اور دہشت گردی کا عفریت پورے سماج پر مسلط ہے۔ ایسے میں پی ٹی سی ایل انتظامیہ بھی محنت کشوں پر تابڑ توڑ حملے کر رہی ہے ۔ لیکن پی ٹی سی ایل کی حالیہ تاریخ انقلابی روایات سے بھری ہوئی ہے۔ پچیس مئی دو ہزار پانچ کو پی ٹی سی ایل ہیڈ کوارٹر میں ہم سب نے مل کر جس جرات اور انقلابی جذبے کے ساتھ اپنے ادارے کی نجکاری کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا اور استقامت اور یکجہتی کے ساتھ اس جنگ کو جیتنے ہی والے تھے کہ ٹریڈ یونین کے غدار ا ور بکاﺅ لیڈروں نے اس جیتی ہوئی جنگ کو اپنے ذاتی مفادات کے عوض حکمرانوں کے ہاتھو ں بیچ دیا۔ یہ پاکستان میں ہونے والی پہلی نجکاری نہیں تھی اور نہ ہی محنت کش طبقے کے ساتھ پہلی غداری تھی لیکن جو مزاحمت اور جرات اس نجکاری کے خلاف پی ٹی سی ایل کے مزدوروں نے دکھائی وہ پاکستان کی مزدور تحریک میں ایک سنہرے باب کے طور پر رقم ہو گئی۔ اس نجکاری کے عمل کے بعد پی ٹی سی ایل کے محنت کش جس عذاب او ر کرب سے گزرے وہ ہم سب جانتے ہیں۔ پنتیس ہزارمحنت کش اپنی مستقل ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے باقی ماندہ مزدوروں کا انتظامی جبر کے ذریعے آج بد ترین استحصال جاری ہے۔ آج پی ٹی سی ایل میں کسی بھی محنت کش کی ملازمت کو تحفظ حاصل نہیں ۔ دور دراز علاقوں میں تبادلے، تنخواہوں، عید ایوارڈ اور دیگر مراعات میں کٹوتیوں کا عمل مسلسل جاری ہے۔ ایمپلائیز سن کوٹہ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ دوران ملازمت فوت ہو جانے والے مزدوروں کے لواحقین کو بے یار ومددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ٹی اے/ڈی اے مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں جبکہ پی ٹی سی ایل کے مزدور قلیل تنخواہ میں دور دراز اور وسیع علاقوں میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ڈیپارٹمنٹل لونز بند کر دیئے گئے ہیں۔ ادارے میں آپریشن ، سوئچنگ، پاور پلانٹ کے نام پر محنت کشوں کو تقسیم کرنے اور ان کی یکجہتی کو توڑنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے جس سے ادارے کی کارکردگی بجائے بہتر ہونے کے خراب ہوئی ہے۔ اوور ٹائم کا خاتمہ کر دیا گیا ہے غرضیکہ وہ تمام مراعات جو ٹی اینڈ ٹی سے پی ٹی سی ایل بننے کے سفر کے دوران محنت کشوں نے اپنی یکجہتی اور طاقت کے ذریعے حکمرانوں سے چھین کر حاصل کی تھیں، ایک ایک کر کے وہ تمام حاصلات اور مراعات محنت کشوں سے چھین لی گئی ہیں۔ نجکاری کے بعد نئی انتظامیہ اتصلات نے پی ٹی سی ایل کے مزدوروں پر جبر اور استحصال کی انتہا کر دی ہے جو اس بات کا اظہار ہے کہ نئی انتظامیہ پی ٹی سی ایل کے محنت کشوں کے انقلابی کردار سے ابھی تک خائف ہے اور اسی خوف کے عالم میں محنت کشوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے اس سے محنت کشوں میں غم و غصہ اور اشتعال بڑھتا جا رہا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ کر کسی بڑی تحریک کا موجب بن سکتا ہے۔ اسی لئے اتصلات انتظامیہ اور این آئی آر سی پی ٹی سی ایل کے محنت کشوں کے اس غصے اور اشتعال کے دباو کے باعث ستائیس جنوری دو ہزار دس کو ریفرنڈم کرانے پر آمادہ ہو گئے ہیں ۔ پی ٹی سی ایل انتظامیہ ریفرینڈم کومحنت کشوں کو تقسیم کرنے اور جھانسہ دینے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے مگر ہم نے اس جمہوری عمل کو محنت کشوں کو منظم اور متحد کرتے ہوئے اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے استعمال کرنا ہے۔بدقسمتی سے نجکاری کے عمل کی واپسی اور ادارے کو مکمل طور پر محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیتے ہوئے قومی تحویل میں لینے کا مطالبہ کسی بھی یونین کے ایجنڈے میں شامل نہیں ۔ آج پی ٹی سی ایل کے محنت کشوں کے بہت سے مسائل کی وجہ اس ادارے پر نجی کمپنی کا قبضہ ہے۔ اگر ہم اس کمپنی کا قبضہ یہاں سے ختم کرانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور پی ٹی سی ایل کی نجکاری ختم ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف ملازمین کے بہت سے مسائل کی جڑ ختم ہو جائے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اگر ہم اس مطالبے کو ہر پلیٹ فارم پر سر فہرست رکھیںاور اس کے لیے جدوجہد کریں توبظاہر یہ نا ممکن کام سر انجام دیا جا سکتا ہے ۔ اگر پی ٹی سی ایل سے نجکاری ختم ہوتی ہے تو پورے ملک کے محنت کش ہمارے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے تمام اداروں سے اس نجکاری کو ختم کر دیں گے اور ساتھ ہی پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی نئی مزدور دشمن گھناونی پالیسی بھی دم توڑ جائے گی ۔ ۔ ۔ ۔ مزدور بھائیو! ہمارا اصل دشمن یہ سرمایہ دارانہ نظام ہے ،ہماری نجات اور بقا اس نظام کے خاتمے سے وابستہ ہے اور اس نظام کا خاتمہ صرف ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ممکن ہے۔ہم مزدور اس سماج کو چلاتے ہیں اور مٹھی بھر سرمایہ دار ہمارا خون نچوڑ کر اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔یہ ادارہ ہم محنت کشوں کا ہے اور یہ ہم انتظامیہ سے لے کر رہیں گے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ محنت کش ساتھیو! اگر ہم نے اپنے ادارے اور اپنی ملازمتوں کا تحفظ کرنا ہے تو ہمیں ایک دفعہ پھر اسی جرات اور یکجہتی کا مظاہر ہ کرنا ہو گا، جس کا اظہار پچیس مئی دو ہزار پانچ کو پی ٹی سی ایل ہیڈ کوارٹر میں کیاگیا تھا جب محنت کشوں نے ان تمام لیڈروں کو ایک ایکشن کمیٹی میں اکٹھا ہونے پر مجبور کیا ۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم مل کر پی ٹی سی ایل سے اس تحریک کا آغاز کریں جو پاکستان بھر کے مزدوروں کے لئے مشعل راہ اور ایک ایسے انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو جو پاکستان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کے خاتمے کی بنیاد بنے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مطالبات اور پروگرام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1۔پی ٹی سی ایل کی نجکاری کا فی الفور خاتمہ کر کے قومی تحویل میں لے کر پی ٹی سی ایل کے مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے۔2۔نجکاری کے خاتمے کی جدوجہدکے لئے تمام یونینز سے وابستہ محنت کش مل کر نچلی سطح سے مزدوروں کی ایکشن کمیٹیاںتشکیل دیں ۔3۔ نام نہاد \\\"وی ایس ایس سکیم\\\"کے ذریعے بر طرف کئے گئے پنتیس ہزار مزدوروں کو فی الفور بحال کیا جائے۔4۔ ایمپلائز سن کوٹہ بحال کیا جائے اور دوران ملازمت فوتگی کی صورت میں تمام مراعات دی جائیں۔5۔ ٹے اےڈی اے اور اوور ٹائم بحال کئے جائیں ۔6۔ تمام این سی پی جی اور ڈیلی ویجز ورکروں کو مستقل کر کے بی پی ایس سکیل دیئے جائیں۔7۔ ڈیپارٹمنٹل لونز بحال کئے جائیں۔8۔ عید ایوارڈ نجکاری سے پہلے کی پوزیشن پر بحال کیا جائے ۔9۔ نجکاری کے بعد ختم کی گئیں تمام مراعات بحال کی جائیں۔10۔ پی ٹی سی ایل کے محنت کشوں سے جبری مشقت لینے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔11۔ تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے اوراس اضافے کو افراط زر سے منسلک کیا جائے۔12۔ کم از کم تنخواہ ایک تولہ سونے کے برابر کی جائے۔13۔ اوقات کار کوکم کر کے ہفتہ وار پنتیس گھنٹے کیے جائیں۔14۔ تمام ورکروں کے لئے صحت ، تعلیم ، رہائش ، ٹرانسپورٹ، بجلی، گیس سمیت تمام بنیادی سہولیات مفت اور بلاتفریق فراہم کی جائیں۔15۔ دوسرے اداروں کے محنت کشوں کے ساتھ مل کر نجکاری اور سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے اور سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کو تیز کیا جائے۔ مطالبات : ۱۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نام پر نجکاری کی مجرمانہ پالیسی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ ۲۔ نجکاری میں دیئے گئے تمام اداروں کو دوبارہ قومی تحویل میں لے کر محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے ۔ ۳۔ تمام سامراجی پالیسیوں بشمول نجکاری ، ڈاﺅن سائزنگ ، رائٹ سائزنگ ، ری سٹرکچرنگ اور ڈی ریگولےشن کا خاتمہ کیا جائے ۔ ۴۔ تمام کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے اور کنٹریکٹ پالیسی کو ختم کیا جائے ۔ ۵۔ جبری بر طرفیوں کا صدارتی آرڈنینس 2000ءکا خاتمہ کیا جائے۔ ۶۔ مہنگائی اور بےروزگاری کا خاتمہ ۔ صحت ، علاج ، تعلیم، بجلی اور گیس کی عوام کو مفت فراہم کیا جائے۔ ۷۔ ملازمین کی تنخواہ کم از کم ایک تولہ سونے کے برابر کیا جائے ، اوقات کار کو کم کرکے ہفتہ وار 35گھنٹے کیا جائے ۔
 
< Prev   Next >

The Struggle continues!