|
عصمت اللہ نسوار فیکٹری میں سو ورکرز کی برطرفی ۔ پی ڈی یو |
|
|
|
Written by PTUDC
|
|
Sunday, 24 January 2010 |
|
قمرالزماں خاں،24.01.2010۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صادق آبادشہر سے بیس کلو میٹر دور کوٹ سبز ل نامی قصبے میں نسوار بنانے والی فیکٹری ہے جس کا مالک عصمت اللہ خاں ہے۔ اس فیکٹری میں سو سے زائد مزدور کام کرتے ہیں ۔ اس فیکٹری کو قائم ہوئے بیس سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے مگرابھی تک یہ فیکٹری کسی بھی حکومتی ادارے میں رجسٹرڈ نہیں ہے۔ اس کا فائدہ فیکٹری کا مالک اس صورت میں اٹھاتا ہے کہ نہ تو وہ کسی قسم کے لیبر قوانین پر عمل درآمد کرتا ہے ، نہ ماحولیاتی قوانین کا خیال کرتا ہے اور نہ ہی اسنے مزدوروں کو سوشل سیکورٹی اور اولڈ ایج بینفٹ کے اداروںمیں رجسٹرڈ کرایا ہے۔ یہ شخص نہ صرف ایک گم نام بلڈنگ میں کام کرکے انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس بچاتا ہے بلکہ اسنے اپنے کارخانے کو عملاََ ایک خرکار خانہ بنا دیاہوا ہے۔ اس ادارے میں مزدور بدترین ماحول میں کام کرتے ہیں، مضر صحت چونے اور دیگر نقصان دہ کیمیکلز کے اثرات سے بچنے کے لئے کسی قسم کے حفاظتی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے مزدور پھیپھڑوںاور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے اور مرتے رہتے ہیں۔ مزدوروں کو پوری اجرت مانگنے پر بغیر کسی قسم کے نوٹس اور نوٹس پے کے بغیر ادارے سے نکال دیا جاتا ہے اور انکو کسی قسم کے واجبات بھی ادا نہیں کئے جاتے۔ ایک چھوٹے عرصے میں رہڑی چلانے والا عصمت اللہ مزدوروں کی محنت نچوڑ نچوڑ کر ارب پتی بن چکا ہے۔ اس ناجائیز دولت کا استعمال اسکو علاقے میںایک ”معزز شخصیت“ بنا چکا ہے۔ لیبر ڈیپارٹمنٹ ، سوشل سیکورٹی ، اولڈ ایج بینیفٹ کے ادارے تو پہلے ہی اس ”خفیہ خرکارخانے“سے ناواقف تھے ، لہذا اس کو کسی قسم کے لیبر قوانین اور دیگر قواعد و ضوابط کا پابند نہ کرسکے مگر علاقے کے استحصالی زمیندار، چٹی دلال اور جابر دولت مندوں کی حمائت اور تھانے تک رسائی کی وجہ سے عصمت اللہ خاں کو کسی مزدور کے ساتھ زیادتی کا خمیازہ نہیں بھگتنا پڑتا۔ لہذا وہ زیادہ بے دردی سے مزدوروں کا استحصال کررہا ہے۔ حکومت کی طرف سے حقیر قسم کی ”کم از کم اجرت“یعنی چھ ہزار روپے ماہانہ کے قانون بننے کے بعد ادارے میںکام کرنے والے مزدوروں نے جب دو ہزار آٹھ میںمالک سے اجرت بڑھانے کا کہا تو اس نے دو ہزار دس میں عمل درآمد کا وعدہ کیا دو ہزار دس کے آغاز میں جب مزدوروں نے مالک کو وعدہ یاد دلایا تو اس نے کم از کم اجرت کا مطالبہ کرنے والے ساٹھ سے زائد مزدوروں کو کارخانے سے نکال کرتالا بندی کااعلان کردیا۔ مزدوروں کے احتجاج پر عصمت اللہ خاں نے تھانہ کوٹ سبزل کی پولیس کو اپنے غیر قانونی، غیر اخلاقی اقدامات کی توثیق کے لئے طلب کرلیا ۔ پولیس نے ملازمین کو حراساںکیا اور گرفتاری کی دھمکیاں دیں۔ اس واقع کی اطلاع پر پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین نے فوری طور پر مزدور تنظیموں کا اجلاس بلایا اور مشترکہ ایکشن کا اعلان کیا۔ جس میں لیبر ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ رابطہ اور احتجاجی ریلی نکالنے کے اقدامات سے اس جدوجہد کا آغاز کیا گیا۔ مورخہ تیرہ جنوری کو پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کی طرف عصمت اللہ نسوار فیکٹری کے برطرف مزدوروں کے ساتھ یک جہتی اور انکی بحالی کے مطالبے پر ایک ریلی صادق آباد شہر میں نکالی گئی جس میں سینکڑوں مزدوروں نے شرکت کی۔ مظاہرین کے مطالبات تھے کہ حکومت عصمت اللہ نسوار فیکٹری کوٹ سبزل میں چھ ہزارروپے کم از کم تنخواہ کے قانون پر عمل درآمد کرائے ۔ آٹھ کی بجائے سولہ گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی ہے اور اوور ٹائم نہیں دیا جاتا ۔ عصمت اللہ نسوار فیکٹری مزدوروں کے لئے ایک عقوبت خانہ ہے جس کو مقامی خرکاروں،بھتہ خور زمینداروں اور حکومتی اداروں کی آشیر باد حاصل ہے۔ عصمت اللہ نسوار فیکٹری کی طرف مزدوروں کے لاکھوں روپے کے واجبات ہیں،حکومت فوری طور پر ہمیں ہمارا حق دلوائے۔ سو سے زائد مزدوروں کے کام کرنے والے ادارے کو ابھی تک لیبر ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ نہیں کرایا گیا ۔ مزدوروں کو سوشل سیکورٹی اور اولڈ ایج بینیفٹ میں رجسٹرڈ نہ کراکے مفت علاج معالجہ ، جہیز فنڈ، ڈیتھ گرانٹ اور پنشن کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔ عصمت اللہ نسوار فیکٹری کو علاقہ غیر نہیں بننے دیں گے۔ میڈیا مزدوروں کی مدد کرکے ”خرکار ازم “کی اس کوشش کو ختم کرائے۔ ان خیالات کا اظہارپاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے زیر اھتمام عصمت اللہ نسوار فیکٹری کے برطرف مزدوروں کی حمائت میں نکالی گئی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مزدور راہنماﺅں نے کیا۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے مرکزی چئیر مین قمرالزماں خاں نے کہا کہ ہم عصمت اللہ نسوار فیکٹری اور کسی بھی ادارے میں مزدوروں کے خلاف ظلم نہیں ہونے دینگے۔ محنت کشوں کو یکجا کرکے استحصال اور جبر کی ہر شکل کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ کام فیکٹری خود کرارہی ہو یا ٹھیکے پر دیا ہو مزدورو کی کم از کم اجرت چھ ہزار کا تعین پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے کیا ہے او راس پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے حکومتی اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ”عصمت اللہ نسوار فیکٹری لیبر یونین“ کے نمائندگان انعام اللہ ولد جام کالو۔ سعید احمد ولد در محمد۔ حضور بخش ولد حاجی رحیم بخش نے کہا کہ عصمت اللہ نسوار فیکٹری میں مزدوروں کے ساتھ پچھلے بیس سال سے ظلم ہورہا ہے۔ وہاں کام کرنے والے مزدوروں کوبدترین حالات کار میں کام کرنا پڑ رہا ہے۔ کسی قسم کی نہ تو سیفٹی ہے اور نہ ہی چونے اوردیگر مضر صحت کیمکل سے تحفظ کےلئے ماسک فراہم کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سال ہا سال سے ہمیں بدترین اجرت پرسولہ گھنٹے کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ ماہانہ اور سالانہ چھٹیوںکا نام و نشان نہیں ہے۔ نہ ہی اوور ٹائم دیا جاتا ہے اور نہ ہی دیگر مراعات جن کا لیبر لاز کے تحت فراہم کیا جانا ضروروی ہے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے لیبر یونین فوجی (CBA)فرٹیلائیزر کمپنی ماچھی گوٹھ کے جنرل سیکریٹری نواب دین لاشاری نے کہا کہ مقامی فیکٹریوں میں غیر قانونی اقدامات اور مزدوروںکے خلاف اقدامات ، لوٹ مار اور غیر معیاری حالات میں کام کھلے عام کرائے جاتے ہیں مگر قانون نافذ کرنے والے ادارے سوئے ہوئے ہیں۔انہوںنے کہا کہ مزدور جب اپنے حقوق کے حصول کے لئے باہر نکلتے ہیں تو پھر یہ ادارے یکایک نکل کر مزدوروں پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔ الصداقت ایمپلائیز یونین(CBA)یونائٹیڈ شوگر ملز صادق آبادکے صدر چوھدری محمد اشرف نے کہا کہ علاقہ بھر کی مزدور تنظیموں اور محنت کشوںکو اپنے حقوق کے حصول کے لئے اکٹھا ہوجانا چاہئے۔ ریلی سے پی ٹی یو ڈی سی کے عباس تاج۔ یونائٹیڈ ایتھانول انڈسٹریز کے صد رمحمد جہانزیب۔ عوامی کالونی کے محمد مشتاق۔ جاگو موومنٹ بستی میاںصاحب محمد محسن نے بھی خطاب کیا۔ قبل ازیںعصمت اللہ نسوار فیکٹری کے متاثرہ مزدورون کے ساتھ یک جہتی کے لئے ریلی کا آغاز ریلوے چوک سے کیا گیااور شہر بھر میں مزدوروں نے مارچ کیا۔مزدور عصمت اللہ نسوار فیکٹری کے مالکان اور خرکاروں کے خلاف سخت نعرہ بازی کررہے تھے اور برطرف مزدوروں کی بحالی کے نعرے لگا رہے تھے۔
|