کے ای ایس سی عوام دوست یا دشمن Print E-mail
Written by PTUDC   
Wednesday, 03 February 2010
زبیر رحمٰن۔19.01.2010۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دنیا بھر میں کچھ ادارے خدمات کے لیے مختص ہوتے ہیں اور ان اداروں کا مقصد عوام کو مفت یا سستی خدمات پیش کرنا ہوتا ہے۔ سوشلسٹ معاشرے میں تو بجلی،گیس صحت اور تعلیم وغیرہ مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ ہمارے پڑوسی پسماندہ ملکوں کو لے لیں ، بھارت، بنگلہ دیش سری لنکا ، نیپال اور افغانستان میں بجلی خاصی سستی ہے۔ دوہفتہ قبل میں خود بنگلہ دیش گیا تھا یہاں تین چوتھائی افراد کے خاندان کا بجلی کا بل ڈھائی تین سو روپے آتا ہے جبکہ کراچی میں اتنے ہی خاندان کا بجلی کا بل بارہ، تیرہ سو روپے آتا ہے ۔ یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ ہمارے حکمرانوں نے خود کرائے کی بجلی خریدنے کے وقت ان کمپنیوں سے مہنگے سودوں کا معاہدہ کر رکھا ہے۔ اس میں ہمارے حکمران عوام کے نہیں اپنے فائدے پر زیادہ نظر رکھتے ہیں۔ جب کے ای ایس سی قومی ملکیت میں تھی اس وقت بجلی مہنگی تھی اور نہ لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی ۔ نجکاری ہوئی تو اس کے ایم ۔ ڈی نوید اسماعیل کی تنخواہ اسی لاکھ روپے تھے ،انہیں میرٹ ہوٹل میں مستقل دو کمرے ملے ہوئے تھے ۔ اس وقت بھی کسی بھی افسر کی تنخواہ ایک لاکھ روپے سے کم نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ نجی مالکان نے تین چار سو افرادکی کارپوریٹ انتظامیہ تشکیل دی ہے۔ پہلے ایک سکیورٹی افسر تھا اور اب چار بریگیڈیئرز اور انیس کرنلوں(ریٹائرڈ)کو سکیورٹی پر معمور کیا گیا ہے، جنکی تنخواہیں لاکھوں میں ہیں۔ آئی بی سی کے نام سے ایک نیا ادارہ تشکیل دیا گیا ہے جو ملازمین کو افسر بناتا ہے ، ان کی تنخواہوں میں معمولی سا اضافہ کر کے یونین کی سرگرمیوں سے دور کر دیا جاتا ہے جن پر لیبر قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔ آئی بی سی کواتنا اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ کوئی وجہ بتائے بغیر کسی کو بھی ملازمت سے نکال سکتی ہے ۔ آٹھارہ سو چھیاسی میں شکاگو کے مزدوروں نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر آٹھ گھنٹے کے اوقاتِ کار منظور کروائے تھے اب اسے ختم کر دیا گیا ہے۔ اس وقت کے ای ایس سی ۔ اسی ارب روپے کی واپڈا کی مقروض ہے ، بیس ارب روپے کی گیس کمپنیوں کی مقروض ہے، تیس ارب روپے کی آئی پی پی ایس کی مقروض ہے اور پچاس ارب روپے کی بینکوں کی مقروض ہے ۔ ’مرے تو سو جوتے‘ کے مترادف اپنی پیداواری لاگت بڑھانے کی بجائے رینیٹڈ پلانٹ کے لیے اکیس ارب روپے ایڈوانس ادا کر دیئے گئے ہیں۔ یہ سودا مہنگا ترین ہے ۔ کے ای ایس سی کے اپنے پاور پلانٹس کا مکمل ڈھانچہ موجود ہے مگر اس ڈھانچے سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔ انتظامیہ فرنس آئل خریدنے سے انکاری ہے جبکہ تاریخ میں پہلی بار کے ای ایس سی کی ماہانہ وصولیابی سات ارب روپے کے لگ بھگ ہوئی ہے۔ محنت کشوں کی صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ پندرہ سال سے مستقل ملازمین بھرتی نہیں کیے جار ہے ہیں۔ ٹھیکے پر مزدور بھرتی کیے جاتے ہیں جن کی کل تعداد دو ہزار پانچ میں گیارہ ہزار پانچ سو تک پہنچ گئی تھی۔ اپنی ناگفتہ معاشی صورتحال کی وجہ سے ان میں سے اکثریت ملازمت چھوڑ گئی ہے۔ اب صرف ساڑھے پانچ ہزار کنٹریکٹ ملازمین ہیں جن کو موجودہ انتظامیہ مستقل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے ہنر مند ملازمین کی ہنر مند ادارے میں کمی محسوس ہو رہی ہے۔ ادارے میں ایم بی اے ، سی اے اور اس قسم کی ڈگریاں رکھنے والوں کی بھرمار ہے(جبکہ ان لوگوں کو پیسے کمانے کے بہت سے طریقے آتے ہیں)لیکن ہنر مند انجینیئروں اور ہنر مند عملے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ جب اس دارے کی نجکاری ہوئی تھی اس وقت نجکاری کمیشن کے سامنے جو شرائط رکھی گئی تھیں ان میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ مالکان چار اعشاریہ پانچ ارب کی سرمایہ کاری کریں گے جبکہ اب تک ایک روپے کی بھی سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس مالکان کے نمائندے مختلف پاکستانی بینکوں ، غیر ملکی بینکوںاور کے ای ایس سی کی زمینوں کا سروے کرتے رہتے ہیں۔ اطلاعات یہ ہیں کہ سب زمینیں گروی رکھ دی گئی ہیں۔ اس ادارے پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں جبکہ پیپلز پارٹی اور متحدہ کی مخلوط حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے ۔ دوسری جانب مزدوروں کی مراعات میں کمی کر دی گئی ہے۔ میڈیکل سٹور وں، ادارے کے ہسپتالوں میں ہر وقت بلوں کی ادائیگی نہیں کی جاتی جسکی بنیاد پر انتظامیہ اکثر مزدور مریضوں کو ہسپتال سے خارج کر دیتی ہے۔ نجکاری کے وقت معاہدے مین یہ بھی شامل تھا کہ سات سال تک بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہیں کیا جا ئے گا جبکہ ہر ماہ کسی نہ کسی بہانے سے نرخوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ کے ای ایس سی اس عرصے میں فرنس آئل خرید کر اپنے جنریشن اسٹیشن چلاتی تاکہ کراچی کے شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ وفاقی وزیر بجلی و پانی راجہ پرویز اشرف ، گورنر سندھ عشرت العباد، وزیرِ اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کے بار بار کہنے کے باوجود ادارے کی انتظامیہ فرنس آئل خریدنے کے لیے تیار نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کیپیٹل ابرج گروپ جو ایک ملٹی نیشنل کمپنی ہے وہ حکومت اور ریاست سے بھی زیادہ طاقتور ہے ؟ آئی بی پی پی ایس کمپنیاں انڈیا ، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو سستے داموں بجلی فراہم کرتی ہیں لیکن پاکستان کی حکومت کی یہ عوام دشمنی اور خود غرضی ہے کہ کمپنیوں سے بجلی مہنگے داموں خریدنے کے سودے کیے گئے ہیں۔ ان سودوں میں آصف علی زرداری پر کک بیک وصول کرنے کے بھی الزامات ہیں۔ بجلی کے بلوں کی وصولی کے لیے ایک نیا ڈیپارٹمنٹ آر پی ڈی کے نام سے تشکیل دیا گیا ہے۔ اس ادارے کے ملازمین کو زیادہ وصولی پر کمیشن بھی دیا جاتا ہے۔ یہ بھی افواہ ہے کہ یہ ادارہ اوور بلنگ کرنے میں بھی ملوث ہے ۔ کے ای ایس سی کے سٹوروں میں میٹیریل کی بہت کمی ہے جس کی وجہ سے بجلی کے فنی نقائص دور کرنے میں محنت کشوں کو مشکلات کاسامنا ہے۔ بجلی کے نظم ونسق کے ذمہ داران یعنی نجی شعبے کی کارپوریٹ انتظامیہ عوامی نمائندوں سے ملنے سے گریز کرتی ہے جبکہ بجلی کے تعطل کی صورت میں عام محنت کش ،عوا م اور شہری آپس میں لڑ پڑتے ہیں حالانکہ ان محنت کشوں کا ادارے کی ناقص صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بدعنوانی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ان تمام حالات کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ نجکاری ہی سرے سے غلط ہے ۔ یہ نجکاری صرف بجلی کے شعبے میں نہیں ہوئی بلکہ عالمی سرمایہ داری پوری دنیا کے تمام اداروں کی نجکاری کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اس نجکاری کا نتیجہ جنوبی امریکہ کے عوام سب سے پہلے بھگت چکے ہیں۔ پھر مشرق بعید اور مشرقی ایشیا میں خاص کر جنوبی کوریا ،فلپائن، تھائی لینڈ اور ملائیشیا وغیرہ ہیں۔ اس سلسلے میں حال ہی میں یورپی یونین کے صدر جو کہ بیلجیم کے وزیرِ اعظم بھی ہیں ہر من وان رومپیوئی کی سگی بہن مس کرسٹائین جو کہ بیلجیم کی ورکرز پارٹی کی رہنما بھی ہیں کہا ہے کہ یورپی یونین زیادہ سے زیادہ نجکاری کے لیے دباﺅ ڈال رہی ہے ۔ ہمارا سرمایہ دارانہ نظام صابن کے بلبلوں کی طرح افواہیں بیچتا ہے۔ برطانوی ریلوے کی نجکاری کی گئی اب وہاں ریل گاڑیاں وقت پر نہیں پہنچتیں،ریلوے سروس کا معیار بری طرح گر گیا ہے۔ یہی حال بجلی کا ہوا ہے۔ بجلی پہلے سے زیادہ مہنگی ہوئی اور بجلی سے وابستہ صنعت اربوں پاﺅنڈ ،یورو اور ڈالر کما رہی ہے ۔ ان سب ممالک میں نجکاری کی وجہ سے مہنگائی ،بیروزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ سرمایہ داروں کی تجوریاں بھری جا رہی ہیں۔ ا ب یہ نجکاری بھارت، سری لنکا ، بنگلہ دیش اور پاکستان میں ہو رہی ہے اور یہی کمالات دکھا رہی ہے۔ یہاں بے نظیر بھٹو کے دور سے لے کر گیلانی کے دور تک سیمنٹ،تیل، گھی، چینی ، بجلی یعنی ہر وہ ادارہ اور پیداوار جہاں پر نجکاری ہوئی قیمتوں میں اضافہ اور بے روزگاری ، بھوک اور افلاس میں ہی اضافہ ہوا ۔ اب اس کا واحد علاج قومی ملکیت میں لینا ہے جیسا کہ جنوبی امریکہ میں شروع ہو چکا ہے۔ اب پاکستان اور دنیا بھر کے محنت کش نجکاری کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور یہ لڑائی پاکستان اور دنیا بھر میں سوشلسٹ انقلاب کے برپا ہونے تک جاری رہے گی۔ اس کے سوا بنی نوع انسان کی بہتری کا اور کوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔ سارے راستے بند گلی میں پھنس جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ موجودہ انتظامیہ نے نام نہاد ایک ضابطہ اخلاق مزدوروں پر لاگو کیا ہے جس کے تحت ادارے میں ، مزدوروں پر تحریر وتقریر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ اقدام لیبر قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اس کے خلاف محنت کش اٹھ کھڑے ہوں گے۔
 
< Prev   Next >

The Struggle continues!