|
پاکستان اسٹیل کے ڈیلی ویجز ملازمین کی جدوجہد |
|
|
|
Written by PTUDC
|
|
Wednesday, 03 February 2010 |
|
رپورٹ ۔ جنت حسین،25.01.210۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان اسٹیل کے ڈیلی ویجز اور
کنٹریکٹ ملازمین ایک لمبے عرصے سے اپنے حقوق کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس
سلسلے میں سب سے بڑا مظاہر ہ چوبیس نومبر دن بارہ بجے کو کیا گیا جب
ہزاروں ملازمین نے اسٹیل مل کا مین گیٹ بند کر دیا اور اپنے حقوق کے لیے
نعرے بلند کیے۔ان ملازمین کا سب سے اہم مطالبہ یہ تھا کہ انہیں موجودہ
حکومت کے وعدوں کے مطابق فوری طور پرمستقل کیا جائے۔ اس مظاہرے میں اسٹیل
مل کی ایجوکیشن اور ہسپتال سے وابستہ سینکڑوں خواتین اپنے بچوں کے ساتھ اس
دھرنے میں شامل ہو گئیں اس کے علاوہ مینارٹی ونگ کے بھی سینکڑوں کارکن
شریک ہوئے۔ ان مظاہرین نے اسٹیل مل کی جنرل شفٹ سے واپس جانے والے آٹھ
ہزار ملازمین کی بسیں بھی روک لیں لیکن ملازمین کے اصرار پر شام سات بجے
انہیں جانے دیا گیا۔ شدید سردی میں مظاہرین ساری رات مین گیٹ پر بیٹھے رہے
اورمطالبات کی منظوری تک دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ مظاہرہ پلانٹ
کے اندر اور باہر دونوں جگہ جاری رہا۔ پلانٹ کے اندر اس کی قیادت غفار
بگھیو، تنویر ایوب، محمد یاسین، رشید احمد اور مولا بخش کر رہے تھے جبکہ
باہر اس کی قیادت ظہور میمن، حاجی لیاقت، نثار احمد اور محمد اکرم نے کی۔
اسٹیل مل کے ایم ڈی نے مظاہرین کا سامنا کرنے کی کوشش کی لیکن مظاہرین کی
تعداد اور ولولہ دیکھ کر بھاگ گیا۔ تمام مظاہرین اگلے پچیس نومبر کو دن
پانچ بجے تک بیٹھے رہے ۔ دھرنا اس وقت ختم کیا گیا جب اسٹیل مل کے چئیرمین
نے ان سے وعدہ کیا کہ انہیں پچیس دسمبر تک مستقل کر دیا جائے گیا۔ اس عظیم
الشان جدوجہد کے بعد سترہ دسمبر کو وزیراعظم کی طرف سے ان ملازمین کو
مستقل کرنے کا ایک مشروط نوٹس آیا۔ اس نوٹس میں کہا گیا تھا کہ ان ملازمین
کو مستقل کیا جائے لیکن اس وقت جب اسٹیل مل ان کی تنخواہیں خود ادا کر
سکے۔ دوسری طرف حالت یہ ہے کہ اسٹیل مل انتظامیہ کی بدعنوانی کے باعث
خسارے کا شکار ہے اور حکومت کی طرف سے اسے دس ارب کاپیکیج دیا گیا ہے۔
ساتھ ہی انتظامیہ پراپیگنڈہ کر رہی ہے کہ مستقل ملازمین کو اپنی تنخواہوں
میں سے پچیس فیصد کٹوتی کرنی پڑے گی تا کہ اسٹیل مل کا خسارہ بچایا جا
سکے۔ اس کے علاوہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نام پر گھناو¿نے طریقے سے
نجکاری کی تلوار ملازمین پر لٹک رہی ہے۔ اس ساری صورتحال میں تمام مستقل
اور ڈیلی ویجز ملازمین کو مشترکہ طورپر اپنے حقوق کی جدوجہد کرنا ہو گی
اور اس مل کو بد عنوان انتظامیہ اور مزدور راہنماو¿ں سے چھٹکارا دلوا کر
محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دینا ہو گا۔ یہ مل کسی حکمران یا جرنیل کی
نہیں بلکہ محنت کشوں کی مشترکہ ملکیت ہے اور وہی اس کو بہترین انداز میں
چلا سکتے ہیں۔
|