خواتین ڈائری کراچی، گھریلومحنت کش خاتون کے حالات زندگی Print E-mail
Written by PTUDC   
Wednesday, 03 February 2010
رپورٹ۔ زاہدہ بانو،25.01.2010۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عورت ابتدا سے ہی روایات کی ڈوری سے بندھی چلی آرہی ہے۔ہمارے معاشرے کی عورت کا تو شاید زندگی سے تعارف ہی نہیں ہو پاتا۔ایسی ہی ایک کہانی رخسانہ آفاق نے سنائی جو انٹرمیڈیٹ تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک گارمنٹ فیکٹری میں کام کرتی رہی تاکہ ماں باپ کا بوجھ ہلکا کر سکے۔شادی کے بعد شوہر کی کم تنخواہ کے باعث اس کا ہاتھ بٹانے کی نیت سے گھر میں اجرت پر کپڑے سینے لگی۔سادہ سوٹ کی سلائی کے وہ اسی روپے لیتی ہے جبکہ ڈیزائن والے سوٹ کے ایک سو دس روپے لیتی ہے۔اس کام میں انتہائی شدید مشقت کرنی پڑتی ہے۔آنکھوں کی بینائی کے ساتھ ساتھ اعصابی توانائی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔اگر زیادہ کپڑے سینے پڑیں تو رخسانہ پریشان ہونے کی بجائے خوش ہو جاتی ہے کیونکہ آمدنی میں اضافہ نظر آتا ہے ۔اپنے بچوں کو پالنے کے لیے اسے اپنی صحت پر جوا کھیلنا پڑتا ہے۔اس کے تین بچے ہیں۔دو بیٹے جو سکول جاتے ہیں اور ایک بیٹی جو دو سال کی ہے۔سلائی کے ساتھ ساتھ اسے گھر کا دوسرا کام بھی کرنا پڑتا ہے جس میں کھانا پکانا اور کپڑے دھونا وغیرہ شامل ہے۔سلائی میں کسی قسم کی کوتاہی کی صورت میں دوبارہ سلائی کرنی پڑتی ہے۔غرضیکہ رخسانہ ایک اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔صرف رخسانہ ہی نہیں اس طرح گھر میں مشقت کرنے والی لاکھوں عورتیں غربت کی چکی میں پس رہی ہیں۔ان کی اس حالت کا ذمہ دار یہ سرمایہ دارانہ نظام ہے۔اس نظام کے خاتمے کے لیے رخسانہ اور دیگر زیادہ سے زیادہ خواتین کو انقلابی شعور دینے اور ان کو منظم کرنے کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شعبہ تدریس سے وابستہ ایک خاتون کا انٹرویو ۔، ۔ نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم کو ایک بیوپار بنا دیا گیا ہے۔ان اداروں میں کام کرنے والے محنت کشوں کی زندگیاں اجیرن ہو چکی ہیں ۔ایسی ہی ایک محنت کش خاتون کا انٹرویو درج ذیل ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ آپ کا نام اور تعلیم کیا ہے؟۔ میرا نام حمیرا سلیم ہے اور میں انٹر ،پی ٹی سی ہوں۔ آپ کو پڑھاتے ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہے اور کیا آپ اس کام سے مطمئن ہیں؟ ۔ میں تین سال سے یہ کام کر رہی ہوں ۔شروع شروع میں میری تنخواہ آٹھارہ سو روپے تھی۔ دو سو روپے چھٹی نہ کرنے کی مد میں دیئے جاتے تھے۔ایک بھی چھٹی کرنے پر تین سو روپے کاٹ لیے جاتے ہیں۔ہر سال دو سو روپے کا اضافہ ہوتا ہے ۔مجھ سمیت اکثر ٹیچرز کو بیک وقت دو جماعتوں کو پڑھانا پڑتا ہے۔ انتظامیہ کا رویہ اساتذہ ،طلبااور والدین کے ساتھ کیسا ہے؟ ۔ رویہ بہت سخت ہے ۔ والدین کو خوش کرنے کے لیے چھوٹی سی شکایت پر بچوں کو ان کے والدین کے سامنے بے عزت کیا جاتا ہے۔ استاد کے کسی بہتر مشورے کو بھی قابلِ قبول نہیں سمجھا جاتا۔ اور اگر کسی وجہ سے انتظامیہ کے مفادات پر ضرب لگتی ہو تو والدین کو بلیک میل کیا جاتا ہے اور مختلف مد میں پیسے بٹور لیے جاتے ہیں۔ کیا آپ کو کوئی الاﺅنس دیا جاتا ہے اور آپ کی ملازمت کو تحفظ حاصل ہے؟ ۔ کوئی الاﺅنس نہیں دیا جاتا ۔ البتہ اگر پورا سال پڑھایا ہو تو جون اور جولائی کی چھٹیوں کی تنخواہ دی جاتی ہے ۔ ملازمت کا دورانیہ مقرر نہیں۔ جب بھی کوئی کم اجرت پر کام کرنے کے لیے آمادہ ہوتا ہے یا موزوں متبادل ہوتا ہے تو جبری طور پر برطرفیاں عمل میں لائی جاتی ہیں۔ ۔ آپ کا اور آپ کے ساتھیوں کا کیا مطالبہ ہے؟۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ جو ادارے مقررہ اصولوں کی خلاف ورزی کریں ان کی رجسٹریشن ختم کی جائے۔ اساتذہ کو ان کا جائز مقام دیا جائے۔ نجی شعبے میں تعلیم کا خاتمہ کر کے اور تعلیم کا بجٹ بڑھا کر تعلیم مفت مہیا کی جائے۔ میں اپنے ساتھی اساتذہ کے ساتھ مل کر نجی اداروں کے محنت کشوں کی ایک تنظیم بنانا چاہتی ہوں تاکہ ہم سب مل کر اپنے حقوق کا دفاع کر سکیںاور محنت کشوں کی دیگر ملکی اور بین الاقوامی تنظیموں سے جڑ سکیں۔ انڈسٹریل ایریا لانڈھی کورنگی کی ایک محنت کش خاتون کے حالات ۔ ۔ ۔ لانڈھی میں ان گنت فیکٹریاں ہیں جن میں گردو نواح کی خواتین اپنی قوتِ محنت فروخت کرتی ہیں۔ ان کے بے شمار مسائل ہیں۔ ایسی ہی ایک محنت کش خاتون فائزہ لیاقت نے ہمیں اپنی روداد کچھ یوں سنائی۔ میں گزشتہ چار برس سے اس کارخانے میں کام کررہی ہوں ۔ گھر سے کارخانے کا سفر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کا ہے۔ میرے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے ۔ میرے چھ بچے ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں ہیں۔بیٹا گریجویٹ ہے مگر ملازمت نہ ملنے کے باعث ایک کارخانے میں کام کرتا ہے اور چھ ہزار ماہوار کماتا ہے۔ اس رقم سے گھر کے اخراجات پورے نہیں ہو سکتے اس لیے مجھے بھی اس کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔ بیٹیوں کی شادی کی فکر کھائی جاتی ہے۔ تنخواہ کا بڑا حصہ ان کے نام کی کمیٹیوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ میں صبح چھ بجے اٹھتی ہوں۔ تیار ہوکر بس سٹاپ پر پہنچتی ہوں۔ سات بجے بس آ جاتی ہے۔ ذرا سی بھی دیر ہو جائے تو اپنے کرائے پر کارخانے جانا پڑتا ہے۔ ساڑھے آٹھ بجے فیکٹری پہنچ جاتی ہوں۔ ذرا سا بھی لیٹ ہونے پر ایک گھنٹے کی مزدوری کاٹ لی جاتی ہے۔ میری تنخواہ ساڑھے چھ ہزار روپے ہے۔ پورا وقت کھڑے ہو کر کام کرنا پڑتا ہے۔ تھکن کے باوجود بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے۔ چار سال گزر جانے کے باوجود میرا شمار عارضی ملازمین میں ہوتا ہے ۔ کسی بھی وقت نکالا جا سکتا ہے۔ میڈیکل کی بھی کوئی سہولت نہیں ۔ ایک ماہ قبل میرا ہاتھ دورانِ ڈیوٹی زخمی ہو گیا تھا جس کا علاج پندرہ روز تک میں نے اپنے خرچ سے کرایا تھا۔ میری صحت مجھے اور کام کی اجازت نہیں دیتی مگر میری ذمہ داریاں مجھے زیادہ کام کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ مہنگائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ عزت سے زندگی گزارنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ کہانی سناتے وقت فائزہ کے چہرے پر کرب کے آثار نمایاں تھے۔ اس انسانیت سوز نظام سے نجات کے لیے ان تمام محنت کش خواتین کو مرد محنت کشوں کے ہمراہ ایک انقلاب کی لڑائی میں متحد کرنا بڑا ضروری ہے۔ فائزہ نے مطالبہ کیا کہ مہنگائی کی نسبت سے تمام محنت کشوں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔ میڈیکل کی سہولت دی جائے۔ سوشل سکیورٹی کارڈ اور دیگر مراعات دی جائیں جو محنت کشوں کا بنیادی حق ہے۔ ۔
 
< Prev   Next >

The Struggle continues!