بلوچستان میں پولیس مزدوروں کی سرکشی Print E-mail
Written by PTUDC   
Wednesday, 03 February 2010
کامریڈ حسن جان،29.01.2010۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سوموار پچیس جنوری کوکوئٹہ میں بلوچستان پولیس کے مختلف اداروں ، اےنٹی ٹیریرسٹ فورس بلوچستان کانسٹیبلریی، ڈسٹرکٹ پولیس جیل ملازمین اور پولیس کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں وردی والے محنت کشوں نے دیگر صوبوں کے پولیس فورس کی طرح تنخواہوں میں سو فیصد اضافے ، دہشت گردی الاﺅنس، حکمران ریاست کی حفاظت پر قربان ہونے والے اہلکاروں کے ورثا کے لئے تیس لاکھ روپے اور دیگر مراعات کے حق میں احتجاج کے لئے پولیس لائن ہیڈ کوارٹر میں جمع ہوئے اور صوبائی حکومت کے خلاف فلک شگاف نعرے بازی کر تے ہوئے گورنر ہاﺅس اور وزیر اعلیٰ سیکر ٹریٹ پر دھرنا دےنے کے لئے روانہ ہوئے ۔ پولیس کے مشتعل نوجوانوں ، جن میں باوردی اہلکار بھی شامل تھے ، نے راستے کی ہر رکاوٹ بہادری اور دلیری سے توڑتے ہوئے گورنر ہاﺅس پہنچے ۔ اس دوران پولیس کے اعلیٰ افسران ، جن میں سی۔ سی۔ پی۔ او کوئٹہ اور ڈی۔ آئی ۔ جی آ پریشن بھی شامل تھے ، نے مظاہرین کو روک کر اُن کے مطالبات کو حل کرانے کی یقین دہانی کی کوشش کی لےکن باغی نوجوانوں نے اُنہیں مکمل نظر انداز کیا اور آگے بڑھتے رہے ۔ عام حالات میں ایک عا م سپاہی اپنے افسر کی حکم عدولی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ، لےکن اُس دن محنت کش سپاہیوں میں جذبہ اور بہادری قابل ِ دید تھا ۔ اس طرح کی کےفیات ہمیں صرف انقلابات کے دوران ہی دےکھنے کو ملتی ہیں ۔ پولیس کے افسران مکمل بے بس تھے اور حواس باختہ ہو چکے تھے ۔ پولیس کے کچھ نوجوانوںنے پولیس وایرلیس کنٹرول روم پر قبضہ کیاا س دوران نوجوان سپاہی وائر لےس کنٹرول روم سے مسلسل حکومت کے خلاف نعرے بازی کر تے ہوے اپنے غم و غصے کا اظہار کر تے رہے ۔ انقلابی نوجوانوں نے مداخلت کر تے ہوئے وائر لےس پر انقلابی اشعار ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اے خاک نشینوںاُٹھ بےٹھو ، وہ وقت قریب آپہنچا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب تخت گرائے جائیں گے ، جب تاج اُچھالے جائیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سناتے رہے ، جس کو محنت کش سپاہیوں کی طرف سے بھر پور داد ملی اور وائر لےس پر ہر طرف سے واہ واہ کی آوازیں آرہی تھیں ۔ مظاہرین پہلے وزیر اعلی ہا¶س گے گیٹ سے اندر گھس کروزیر اعلی ہا¶س میں توڑ پھوڑ کی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے با زی کی وزیراعلی کی عدم موجودگی کے بعد مشتعل نوجوان جےسے ہی گورنر ہاﺅس پہنچے تو اُ نہوں نے گورنر ہاﺅس پر دھاوا بو ل دیا اور گےٹ پھلانگ کر اندر داخل ہوئے ۔ گیٹ پر ڈیوٹی پر موجود سپاہی بھی مظاہرین کے ساتھ مل گئے ۔ یہ گورنر ہاﺅس کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا ۔ اندر جا کر پولیس کے سپاہیوں نے اپنے مطالبات کے حق میں اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور زبر دست ہو ائی فائرنگ کی ۔ گورنر بلوچستان بوکھلاتے ، گھبراتے اور حواس باختگی کے عالم میں اپنے دفتر سے باہر نکلے ۔ مشتعل نوجوانوںنے حکومت مخالف نعروں سے اس کا استقبا ل کیا ۔ اس نے خطاب کرتے ہوئے پولیس سپاہیوں کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ اور ان کے مطالبات کے حوالے سے ایک سمری بنا کر وزیر اعلیٰ سیکر ٹریٹ بھیج دی ۔ وردی والے محنت کشوں کی اس سرکشی نے پوری ریاستی مشینری کو مفلوج کر دیا تھا ۔ طاقت ایوانوں سے نکل کر محنت کش سپاہیوں کے ہاتھوں میں منتقل ہو چکی تھی ۔پولیس کے سپا ہی ٹولیوں کی شکل میں شہر کے مختلف علا قوں میں ٹائر جلا تے رہے اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے با زی کر تے رہےں۔ ریاست بوکھلا گئی تھی کہ کریں تو کیا کریں ۔ اس اثنا ءمیں چار صوبائی وزرا مظاہرین سے بات چیت کرنے پہنچ گئے جنہوں نے مظا ہرین کو تجویز دی کہ وہ دس رکنی مذاکراتی کمیٹی بنا لیں اور بےٹھ کر مذاکرات سے مسئلے کا حل نکالتے ہیں ۔ لےکن سپاہیوں نے کسی بھی طرح کی کمیٹی اور مذاکرات کو مسترد کر دیا اور مطالبہ کیا کہ فوری طور پر پنجاب ، سندھ اور پختونخوا کی طرح بلوچستان پولیس کی تنخواہوں میں سو فیصد اضافے اور دیگر مراعات کا نوٹیفیکےشن جا ری کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ گولیا ں ہم سےنوں پر کھا تے ہیں اور مراعات اعلیٰ افسران ، وزرا اور بیوروکریٹس کھا جا تے ہیں ۔ کیا ہمارے بچوں کا حق نہیں کہ وہ بھی اچھے سکولوں میں پڑھیں ، اچھا رہن سہن ہو ۔ بعد میں وزرا چلے گئے ۔ لےکن محنت کشوں کا یہ احتجا ج اور دھرنا شام تک وزیر اعلیٰ سکر ٹریٹ میں جاری رہا ۔ اس دوران پولیس اور اے۔ ٹی۔ ایف کے اعلیٰ افسران موقع پر موجود رہے لےکن سپاہیوں نے اُن کے تمام احکامات کی دھجیا ں بکھیر دیں اور وہ بے بس اور حیران و پریشان ان پُر جوش اور مشتعل محنت کش سپاہیوں کی طرف دےکھتے رہے ۔ شام کے وقت صوبائی وزیر داخلہ وزیر اعلیٰ سےکر ٹریٹ پہنچ گئے اور مظاہرین کے مطالبات کو پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی جس پر مظاہرین نے کہا کہ اگر پانچ فروری تک مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو اس سے زیادہ سخت اقدام اٹھا یا جا ئے گا ۔ یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے جو کبھی کبھی ہی وقوع پذیر ہو تے ہیں ۔ لےکن یہ واقعہ مجرد طور پر اتفاقیہ یا حادثاتی بھی نہیں ہے جس طرح حکمران طبقات اسے پےش کر نے کی کو شش کر تے ہیں ۔ حکمران اسے صرف چند شر پسند کالی بھیڑوں اور سازشی عنا صر کی حکومت کے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں اور وہ اس مظاہرے اور احتجاج کو ”ہنگامہ آرائی “ اور ”بلوا“ سے تعبیر کر رہے ہیں ۔ یہ کو ئی حادثہ نہیں کہ ہر حکمران کو جب کسی عوامی تحریک ، محنت کش طبقات کی سر کشی اور انقلابات کا سامنا ہو تا ہے تو وہ اُسے ”غیر قانونی اقدام “ ” غیر اخلاقی حر کت “ اور نادیدہ قوتوں کی سازش قرار دےتے ہیں تاکہ اپنے سرمائے کی حاکمیت کو جا ری رکھ سکیں ۔ جس طرح ایران میں درندہ صفت اور وحشی ملا ں ریاست محنت کشوں اور نوجوانوں کے ہر مظاہرے کو امریکہ کی سازش قرار دےکر بے رحمی سے کچلتے ہیں ۔ جب تک محنت کش طبقہ حکمرانوں کے ہر ظلم ، جبر ، استحصال اور لو ٹ مار کو برداشت کر رہے ہو تے ہیں تو یہ حکمران انہیں ” مہذب اور پُر امن شہری “ کے القابا ت سے نوازتے ہیں کیونکہ اُن کے لوٹ مار اور ڈاکہ زنی میں کو ئی خلل نہیں آرہی ہو تی ہے۔ لےکن جب یہی محکوم اور استحصال زدہ محنت کش طبقات اپنے حقوق کے لئے تاریخ کے میدان میں اُترتے ہیں اور اپنی تقدیر اپنے ہا تھو ں میں لےنے کی جد و جہد شروع کر تے ہیں تو حکمران ریا ست حواس با ختگی اور بو کھلا ہٹ کے عالم میں اس سرکشی اور حقوق کی جد و جہد کو اپنے گھسے پٹے قوانین کی رو سے مختلف نا مو ں سے تعبیر کر نا شروع کر دےتی ہے ۔ نام نہاد ” سول سو سائٹی “ اور اخلا قیا ت کے ماہر ین حر کت میں آجاتے ہیں ۔ ہر زید بکر یہ رائے زنی کر تے ہو ئے ملیں گے کہ ” پولیس سپا ہیوں کے مطالبات جا ئز تھے لےکن ان کے احتجاج کا طریقہ ٹھیک نہیں تھا ۔ یہ مہذب معا شرے کے شایا ن ِ شان نہیں “ یہ اور اس طرح کے دوسری آ راءنام نہاد ”سول سو سائٹی “ اور حکمران ریا ست کی ہیں جو انتہائی منا فقت پر مبنی ہے ۔ جب ریاست اور سرمایہ داروں کے منافعوں اور مفادات کو خطرہ لا حق ہو تا ہے تو وہ اپنے نظام اور لو ٹ مار کو جا ری رکھنے کے لئے ظلم ، بر بر یت اور وحشت کی تمام حدوں کو پار کر لےتے ہیں ۔ اس وقت یہ ریا ست ہزاروں مظلوموں کو قتل کرنے ، آبادیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور جنگیں کرنے سے گریز نہیں کر تے ۔ جنگ عظیم اول اور دوم میں کروڑوں انسان سرمایہ داروں کے منا فع کی ہوس میں لقمہ اجل بنے ۔ ضیا ءالحق اور امریکی سامراج نے اپنے نظام کوثور انقلاب سے بچانے کے لئے افغانستان میں تیس لاکھ افغان محنت کشوں کا قتل عام کیا ۔ اخلا قیات پر ست اور تہذیب کا دم بھرنے والے حکمرانو ں کی اس وحشت کو کن الفاظ سے تعبیر کر یں گے ؟ یہ ہم انہی پر چھوڑ دےتے ہیں ۔ اس طرح کے واقعات کو محض ایک معمول کا مظاہر ہ یا احتجاج قرار دےنے سے معاملے کی تہہ اور جو ہر کو سمجھنا نا ممکن ہے ۔ ظا ہر ی طور پر یہ ایک معاشی جد و جہد ہے لےکن اپنے جو ہر میں یہ ایک حقیقی سما جی تبد یلی کی خواہش کا غما ز ہے ۔ اس وقت سیا سی اُفق پر مو جود تمام روایتی سیا سی پار ٹیا ں بالخصوص پا کستان پیپلز پارٹی کی قیا دت تاریخی غداری کی مر تکب ہو رہی ہے ۔ اور محنت کشوں کے حقیقی مسائل کو حل کر نے کی بجا ئے ان کی توجہ نان ایشوز کی طرف مبذول کر رہی ہے ۔ اور تحریک کو ہر طرح سے روکنے کی کو شش کر رہی ہے ۔ اس طرح محنت کشوں کی روایتی ٹریڈ یونینز کی قیا دتیں بھی مزدوروں کو کوئی واضح لا ئحہ عمل اور تحریک کا تنا ظر دےنے کی بجا ئے حکمرانوں کے نوراکشتی کا حصہ بن رہی ہیں جو ایک مجرمانہ فعل ہے ۔ جب کہ محنت کش عوام کی حالت یہ ہے کہ مہنگائی ، بےروز گا ری ، غربت اور بد امنی نے ان کی زند گیوں میں زہر گھول دیا ہے اور ایک حقیقی تبد یلی کے لئے تڑپ رہے ہیں ۔ جمہو ری حکومت نے انہیں لا امتنا ہی جمہو ری مہنگا ئی ، جمہو ری بےروزگاری اور جمہو ری بد امنی دی ہے ۔ اگر تا ریخی تنا ظر میں دےکھا جا ئے تو ریا ست کے مسلح اداروں ، پو لیس اور فوج ، کے محنت کش اس وقت بغاوت پر اُتر آتے ہیں جب پرولتا یہ اور محنت کش طبقے کی تحریک ایک فےصلہ کن مر حلے میں داخل ہو چکے ہو تے ہیں اور یہی اس تحریک کو حتمی کا میا بی سے ہمکنار کر کے نظام کو اُکھاڑ پھےنکتی ہے ۔ لےکن یہا ں صورت حال ذرا مختلف ہے ۔ لےنن نے ایک بار کہا تھا کہ ”تاریخ ہر نوع کے تغیرات سے واقف ہے ۔ “ریا ست کے مسلح اداروں کے محنت کش عمومی طور پر اپنے مسائل یا تحریک کے لئے محنت کش طبقے کی تحریک کی راہ تکتے ہیں اور اُس تحریک کا انتظار کر تے ہیں ۔ کیونکہ مسلح اداروں کی ساخت اور انتظامی نوعیت محنت کش طبقے کی فیکٹریوں اور دوسرے اداروں سے مختلف ہے ۔ یہاں اُنہیں کسی طرح کی یونین سازی ، احتجاج اور ہڑتال کا قانونی حق حاصل نہیں ہے ۔ اُن کے کسی اس طرح کے اقدام کو غداری کے زمرے میں ڈال دیا جا تا ہے ۔ لےکن جدلیا تی مادیت کا مجرد سما جی کلیوں سے کوئی تعلق نہیں ۔ وہ لا امتناہی طور پر محنت کش طبقے کی تحریک کا انتظار نہیں کر سکتے ۔ پولیس کے محنت کشوں کی مو جودہ بغاوت اور سر کشی اسی مخصوص صورتحال کی غمازی کر تی ہے ۔ کیونکہ مسائل زیادہ اور گہر ے ہیں ۔ یہ پرولتاریہ کی تحریک میں تاخیر کی بھی نشاندہی کر تے ہیں ۔ اس سے ایک چیز واضح ہو گئی ہے کہ جب معاشی بد حالی ، بے چےنی ، سما جی گٹھن اور تبدیلی کی تڑپ وردی والے محنت کشوں کو کسی بھی استحصال زدہ سماجی تہہ کی نسبت پہلے مےدان میںنکلنے پر مجبور کر دےتی ہے تو اس سے سماج کی دوسری تہوں با لخصوص پرولتاریہ میں بے چےنی اور تبدیلی کی تڑپ کتنی ہو گی ؟ اس کا اندازہ تو آنے والے دنوں میں محنت کشوں کی تحریک کی شدت سے ہی ہو سکے گا ۔ سماج میں پولیس کے محنت کشوں کی اس سرکشی کے حوالے سے مکمل حما یت پا ئی جا تی ہے ۔ یہ ایک خوشگوار تبد یلی کے آغاز کے طور پر محسوس کی گئی ہے ۔ ذرائع ابلاغ کے سروے کے مطابق ہر کسی نے پو لیس کے احتجاج کو زبر دست خراج تحسین پےش کیا ہے ۔ اس کے علاوہ آل پاکستان کلرکس ایسوسی اےشن نے اگلے دن اپنی رےلی میں وردی والے محنت کشوں کے حق میں زبر دست نعرے با زی کی ۔ جو طبقاتی یکجہتی کی ایک زبر دست مثال ہے ۔ فوری طور پر ریا ست کو شدید دھچکا لگا اور اس پر سکتہ طاری ہو گیا ۔ پولیس کے نوجوانوں نے کنٹرول روم پر قبضہ کر کے ایک دوسرے کو وائر لےس سیٹ پر مظاہرے کے حوالے سے رہنما ئی کر تے رہے ۔ بعد میں آر آر جی کے کمانڈوز نے کنٹرول روم کا قبضہ چھڑایا ۔ چونکہ یہ ایک غیر منظم اور خود رو تحریک تھی ، اس لئے ریا ست کو اپنی رٹ بحا ل کر نے میں تھوڑی آسانی پےش آئی ۔ اُس دن اگر شہر میں فرنٹئیر کور کے دستے پہلے سے موجود نہ ہو تے تو یہ تحریک مزید شدت اختیار کر سکتی تھی ۔ اگلے دن ریا ست نے شہر کا کنٹرول مکمل طور پر اےف ۔ سی کے حوالے کر دیا اور پولیس سے اسلحہ واپس لے کر اُن کے ہا تھوں میں ڈنڈے تھما دئیے ۔گیارہ افراد بشمول افسران اور سپا ہیوں کو گرفتا ر کیا گیا ہے ۔ جبکہ دو سو سے زائد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ بدھ کو پولیس کے سر گرم نو جوانوں نے پورے شہر میں پمفلٹ تقسیم کی ، جس میں عوام کی حمایت کا شکریہ ادا کیا گیا ۔ ساتھ ہی تحریک کو مطالبات کی منظوری تک جا ری رکھنے کا عزم کیا گیا ۔ اسی پمفلٹ میں طبقاتی یکجہتی کا مظاہرہ کر تے ہوئے دوسرے صوبوں کے پولےس اور ایف ۔ سی کے محنت کشوں سے تعاون کی اپیل کی گئی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے تمام تر جا رحانہ بیانا ت کے با وجود ریا ست اندر سے بہت خوفزدہ ہو چکی ہے ۔ جس کا اظہار حکمرانوں اور ریا ست کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے اداریوں سے ہو تا ہے جس میں حکمرانوں کو ”ذمہ داری کا احساس“ اور ”حالات کی نزاکت کا احساس“ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ اور یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر یہ مطالبات قبول نہ ہو ئے تو اس طرح کے حالات دوسرے اداروں میں جنم لے سکتے ہیں جو کسی کے کنٹرول میں نہیں ہو ں گے ۔ سماج میں محنت کش طبقے کی عمومی تحریک کی عدم مو جودگی میں وردی والے محنت کشوں کی یہ سر کشی زیادہ دیر نہیں ٹک سکتی ۔ لےکن اگر اس دوران دوسرے اداروں کے محنت کش اپنے بھا ئیو ں کی مدد کے لئے آجا تے ہیں یا پو لیس کے انقلابی محنت کش ان اداروں کے محنت کشوں کی سر گرم حما یت حاصل کر نے میں کامیا ہوجا تے ہیں تو اس سے ایک انقلابی صورتحال جنم لے سکتی ہے جو سماجی تبدیلی کا روپ دھا ر سکتی ہے ۔ مسلح اداروں کے غریب اور دگنے استحصال کے شکار محنت کشوں کی اس تحریک کا انجام چاہے کچھ بھی ہو ، آنے والے دنوں میں جلد یا بدیر دوسرے اداروں میں موجود محنت کش اپنے بھائیوں کی اس مثال کی تقلید کر یں گے ۔ اب مستقبل کی تحریکوں میں وردی والے محنت کشوں کو مزدوروں کی عمومی انقلابی تحریک میں شامل ہو نے میں زیا دہ دیر نہیں لگے گی ۔ وردی والے اور بغیر وردی والے محنت کشوں کی اکٹھ اس سرمایہ دارانہ نظام کی موت کی صورت میں نکلے گی جو ایک سوشلسٹ انقلاب کا پےش خیمہ ثابت ہو گی۔
 
< Prev   Next >

The Struggle continues!